لاہور: پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کو کوٹ لکھپت جیل میں طبیعت خراب ہونے کے بعد پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کے وکیل رانا مدثر عمر نے اس منتقلی کی تصدیق کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ہسپتال منتقلی کی اطلاع خاندان کے کسی فرد کو نہیں دی گئی۔
دل کی شکایت پر ہسپتال منتقلی
وکیل رانا مدثر عمر کے مطابق نورین نیازی کو دل کی تکلیف کی شکایت تھی، جس کے بعد انہیں ابتدائی طبی معائنے اور ٹیسٹوں کے لیے پنجاب کارڈیالوجی منتقل کیا گیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ نورین نیازی صاحبہ کو جیل میں طبعیت خراب ہونے پر پنجاب کارڈیالوجی منتقل کیا گیا ہے اور ان کی صحت کے لیے دعاؤں کی درخواست کی۔
خاندان کو اطلاع نہ دینے کا الزام
وکیل نے الزام لگایا کہ 70 سالہ نورین نیازی کو غیر قانونی طور پر نظر بند رکھا گیا ہے اور ان کی ہسپتال منتقلی کے بارے میں خاندان کے کسی شخص کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ پی ٹی آئی نے بھی اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بزرگ خاتون کو انتہائی تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔
پی ٹی آئی کا حکومت پر سخت تنقید
پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا کہ نورین نیازی کی جیل میں طبیعت خراب ہونے اور انہیں انتہائی تشویشناک حالت میں پنجاب کارڈیالوجی منتقل کرنے کی خبر نے نظام کا چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ پارٹی نے الزام عائد کیا کہ 70 سالہ بزرگ خاتون کو غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر قید رکھا گیا ہے۔
- پی ٹی آئی کے مطابق بزرگ خاتون کو غیر قانونی نظر بندی میں رکھا گیا ہے۔
- پارٹی نے کہا کہ ہسپتال منتقلی کی اطلاع خاندان کے کسی فرد کو نہ دینا انتہائی شرمناک ہے۔
- پی ٹی آئی نے خبردار کیا کہ اگر خاتون کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری حکمرانوں اور انتظامیہ پر ہوگی۔
نظر بندی کا پس منظر
نورین نیازی کوٹ لکھپت جیل میں نظر بند تھیں۔ عمران خان کی بہنوں کو ستمبر میں پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس 1960 کی دفعہ 3 کے تحت حراست میں لیا گیا تھا، جب پی ٹی آئی اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کی تیاری کر رہی تھی۔
عالیہ کو 20 ستمبر جبکہ عظمیٰ اور نورین کو 21 ستمبر کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کے ابتدائی حراستی احکامات 30 دن کے لیے جاری کیے گئے تھے، جنہیں بعد ازاں 7 اکتوبر کو مزید 30 دن کے لیے بڑھا دیا گیا۔
