خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں بدھ کے روز ایک سرکاری گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اسسٹنٹ کمشنر سمیت پانچ افراد جاں بحق اور گیارہ زخمی ہو گئے۔
باجوڑ کے ضلعی پولیس افسر، وقاص رفیق نے بتایا کہ یہ واقعہ خار تحصیل کے صادق آباد علاقے میں ہوا، جہاں ایک دھماکے نے سرکاری گاڑی کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ جاں بحق ہونے والوں میں نواگئی کے اسسٹنٹ کمشنر فیصل اسماعیل، تحصیلدار عبد الوکیل، صوبیدار نور حکیم اور پولیس کانسٹیبل راشد شامل ہیں۔
زخمیوں کو فوری طور پر خار ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ صوبائی صحت مشیر احتشام علی نے ہسپتال کے حکام سے زخمیوں کی خیریت دریافت کی اور علاقے کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید نے انٹیلیجنس کی بنیاد پر آپریشنز تیز کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے ذمہ داران کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بم دھماکے کی شدید مذمت کی اور جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔
نماز جنازہ پولیس لائنز باجوڑ میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی اور لاشوں کو ان کے آبائی علاقوں میں روانہ کر دیا گیا جہاں انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کیا جائے گا۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ان عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا وعدہ کیا ہے۔

