فرانس کے شہر باگنو میں ایک چونکا دینے والے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے پچیس سالہ بیکر انیس ایچ کو اپنے ساتھی لاحوسین کو چاقو کے آٹھ وار کر کے قتل کرنے کے جرم میں بیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ فیصلہ ہوٹ ڈی سین کی جنائی عدالت نے نانتیغ میں تین روزہ سماعت کے بعد سنایا۔
واقعے کی تفصیلات
عدالت کے مطابق ملزم نے قتل کا منصوبہ پہلے سے بنایا تھا۔ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل میں یہ نکتہ اہم تھا کہ انیس ایچ ملاقات سے قبل اپنے گھر سے چاقو لے کر آیا تھا۔ جج نے اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے قتل کو سوچے سمجھے جرم قرار دیا۔
یہ واردات باگنو کے مرکز میں واقع اس بیکری کے قریب پیش آئی جہاں دونوں افراد ملازمت کرتے تھے۔ متوفی لاحوسین کو چاقو کے آٹھ وار کیے گئے جن میں سے ایک وار گلے کی شہ رگ پر لگا جو جان لیوا ثابت ہوا۔
استغاثہ کا موقف اور سزا
- استغاثہ نے ملزم کے خلاف پچیس سال قید کی سزا کی درخواست کی تھی
- عدالت نے قتل کو پہلے سے منصوبہ بند قرار دیا
- ملزم کی جانب سے گھر سے چاقو لانا اہم ثبوت قرار پایا
- حتمی فیصلے میں بیس سال قید کی سزا سنائی گئی
یہ مقدمہ فرانس میں کام کی جگہ پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں معمولی تنازعات بعض اوقات سنگین جرائم کا روپ دھار لیتے ہیں۔ عدالت کے اس فیصلے کو انصاف کی ایک مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
