صوبائی حکومت سیکیورٹی ڈھانچے میں مکمل تبدیلی لانے پر تیار
بلوچستان حکومت نے صوبے کے معدنی وسائل سے مالامال علاقوں، خاص طور پر رکو ڈِق کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک مخصوص فرنٹیئر کور فورس تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد بین الاقوامی سرمایہ کاروں، خاص طور پر کینیڈا کی باررک مائننگ کارپوریشن کے تحفظات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔
سیکیورٹی ڈھانچے کی نئی تشکیل
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کے معاون برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند نے عرب نیوز کو بتایا کہ دہشت گردوں کے واقعات کے پیش نظر صوبائی حکومت سیکیورٹی فورسز کے اشتراک سے سیکیورٹی ڈھانچے کی مکمل طور پر نئی تشکیل کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں معدنی وسائل والے علاقے کے لیے ایک مخصوص فرنٹیئر کور کا قیام اور ایران و افغانستان دونوں سرحدوں کی حفاظت شامل ہے۔
باررک کا منصوبے کا جائزہ
گزشتہ ہفتے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے مربوط حملوں کے بعد باررک کارپوریشن نے اعلان کیا تھا کہ وہ رکو ڈِق تانبے اور سونے کے کثیر ارب ڈالر کے منصوبے کے تمام پہلوؤں کا فوری طور پر جامع جائزہ لے گی۔ ان حملوں میں 36 شہریوں اور 22 سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
بین الاقوامی سرمایہ کاری کے تحفظ کا عزم
شاہد رند نے زور دیا کہ بلوچستان حکومت صوبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور رکو ڈِق کو غیر ملکی سرمایہ کاری کا پرچم بردار سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس تحفظ کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گی، جس میں انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مضبوط بنانا اور معدنی کمپنیوں کے ساتھ قریبی تعاون شامل ہے۔
منصوبے کی اہمیت اور مستقبل
- رکو ڈِق منصوبہ 2028 میں پیداوار شروع کرنے والا ہے۔
- یہ پاکستان کے معدنی برآمدات بڑھانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی امیدوں کا مرکز ہے۔
- باررک کی ملکیت میں منصوبے کا 50 فیصد حصہ ہے، جبکہ 25 فیصد تین وفاقی سرکاری اداروں اور 25 فیصد بلوچستان حکومت کے پاس ہے۔
بندرگاہی ترقی اور سرمایہ کاری
باررک کی ذیلی کمپنی، رکو ڈِق مائننگ کمپنی نے پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل لمیٹڈ (پی آئی بی ٹی) کے ساتھ برآمدی معاہدہ کیا ہے۔ کمپنی پورٹ قاسم میں 150 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے تانبے اور سونے کے کنسنٹریٹ کی ترسیل کے لیے خصوصی سہولیات تعمیر کرے گی۔
سیکیورٹی چیلنجز اور ردعمل
پی آئی بی ٹی کے سی ای او شاریق عظیم صدیقی نے تسلیم کیا کہ بلوچستان میں دہشت گردی میں حالیہ اضافہ تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کارگو کی نقل و حرکت کے لیے سیکیورٹی نہیں ہوگی تو یہ منصوبہ اور سب کو نقصان پہنچے گا۔ حکام نے حملوں کے بعد صوبے بھر میں بڑے پیمانے پر سیکیورٹی آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں۔
