پچیس سالہ پابندی کے بعد بسنتی ہوائیں
لاہور ان دنوں بسنتی رنگوں میں نہا رہا ہے۔ صوبائی حکومت کے ’پنجاب پتنگ بازی آرڈیننس 2025‘ کے بعد 25 سال کی پابندی ختم ہونے پر شہر میں 6 سے 8 فروری تک تہوار منایا جائے گا۔ نئے قوانین کے تحت صرف سرکاری منظورشدہ پتنگ اور ڈور کی اجازت ہوگی، جبکہ چرخہ اور تیز مَنجھے پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔
پرانی یادیں اور نئے انتظامات
جنوری 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں بسنٹ عام آدمی کا تہوار تھا۔ چھتوں پر جمع ہو کر پتنگ اڑانا، پیچے لڑنا اور ’بو کٹا‘ کے نعروں سے فضا گونج اٹھتی تھی۔ اب تہوار کی واپسی پر حکومت نے تین دن کے لیے موٹر سائیکلز پر پابندی عائد کرتے ہوئے 5 ہزار رکشے اور 500 بسیں مفت چلانے کا اعلان کیا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کو حفاظتی سلاخیں بھی دی جا رہی ہیں۔
معیشت پر مثبت اثرات
معاشرتی شخصیت یوسف صلاح الدین کے مطابق اگر گزشتہ 25 سال میں تہوار جاری رہتا تو یہ پاکستان میں اربوں ڈالر کی صنعت بن چکا ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’گھروں میں پتنگ بنانے والی خواتین، کباب بیچنے والے، ڈور بنانے والے کاریگر، کپڑے فروش اور ٹی وی چینلز سب اس سرگرمی سے منسلک ہوتے ہیں۔ یہ معاشی سرگرمیوں کا ایک وسیع چکر پیدا کرتا ہے‘۔
مہلک ڈور کا سایہ
تہوار کی شہرت میں اضافے کے ساتھ ہی چین سے درآمد ہونے والی سستی نائلن ڈور نے اسے خطرناک بنادیا۔ آل پاکستان پتنگ بازی ایسوسی ایشن کے صدر شکیل شیخ کے مطابق فیصل آباد میں قائم فیکٹریوں میں بننے والی موٹی ڈور گلے کاٹنے کا باعث بنی۔ موچی گیٹ کے تاجر رضا نے بتایا کہ ’لوگوں نے ڈور کے تار 9 سے بڑھا کر 100 تک کر دیے۔ ایسی ڈور گردن سے ٹکرائے تو فوری کٹ جاتی ہے‘۔
دور کی فنکاری اور نئی پیڑھی
پچیس سال کی غیر موجودگی میں ڈور بنانے والے کاریگر یا تو انتقال کر گئے یا پھر دوسرے پیشے اختیار کر چکے ہیں۔ رضا کے مطابق موجودہ پیداوار ضرورت کا 1 فیصد بھی نہیں ہے۔ کاغذ تو دستیاب ہے لیکن بانس تھائی لینڈ، برما اور بنگلہ دیش سے درآمد کرنا پڑتا ہے جس میں تین ماہ لگ جاتے ہیں۔
بڑھتی قیمتیں اور معیار کا سوال
1 فروری 2026 سے پتنگ اور ڈور کی فروخت شروع ہونے پر عوام کو اعلیٰ قیمتوں اور کم معیار کا سامنا ہے۔ سب سے چھوٹی پتنگ 100 روپے میں جبکہ ڈیڑھ فٹ والی توا 300 سے 350 روپے تک فروخت ہو رہی ہے۔ پتنگ کی کم از کم قیمت 1 ہزار روپے اور پِنّا 6 ہزار سے 12 ہزار روپے تک دستیاب ہے۔
کیا نئی نسل میں جوش باقی ہے؟
گوالمنڈی کے مشہور پتنگ باز آصف قصائی کا خیال ہے کہ ’دو نسلیں اس تہوار کے بغیر پلی بڑھی ہیں۔ یہ نسل اسمارٹ فونز اور نیٹ فلکس کے ساتھ پلی ہے، شاید ریلز بنانے میں زیادہ دلچسپی لے گی‘۔ تاہم شکیل شیخ اس سے متفق نہیں، ’6، 7 اور 8 فرتمبر کو آپ دیکھیں گے کہ نئی نسل کیسے مناتی ہے۔ پتنگ بازی خون میں ہے، ایک بار آجائے تو چھوٹتی نہیں‘۔
ذمہ داری کی اپیل
لاہور کے لیے یہ تہوار صرف جشن ہی نہیں، ذمہ داری کا پیغام بھی لے کر آ رہا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری پتنگ ہمیشہ آسمان پر رہے تو ہمیں محتاط رہنا ہوگا۔ ہماری خوشی کبھی کسی دوسرے کے دکھ کا باعث نہ بنے، خاص طور پر جب احتیاط برت کر اسے روکا جا سکتا ہو۔

