اسلام آباد: فیڈرل آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ عدالتوں کے حتمی فیصلوں کو بار بار چیلنج نہیں کیا جا سکتا اور ایک ہی تنازعے کو متعدد عدالتی فورمز کے سامنے پیش کرنا عدالتی عمل کا ناجائز استعمال ہے۔
عدالت نے بھکر میں گرلز اسکول کی تعمیر سے متعلق زمین کی ملکیت کے تنازعے میں انوری بی بی کے ورثاء کی جانب سے دائر کردہ درخواستِ اجازتِ اپیل مسترد کر دی اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
حتمی فیصلے پر نظرثانی کی شرائط
اپنے فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ کسی حتمی فیصلے کو دوبارہ کھولا نہیں جا سکتا، الا یہ کہ دھوکہ دہی، کوئی خامی یا متعلقہ عدالت کے دائرہ اختیار کی کمی ثابت ہو۔ عدالت کے مطابق ایک ہی معاملے کو بار بار عدالتوں میں لانا قانون کے منافی ہے۔
فیصلے میں نوٹ کیا گیا کہ زمین کی تقسیم اور دوبارہ الاٹمنٹ کا معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ تک جا چکا ہے، جبکہ کنسولیڈیشن حکام کا تقسیم سے متعلق فیصلہ بھی حتمی ہو چکا ہے۔ جو معاملہ پہلے ہی طے ہو چکا ہو، اسے عمل درآمد کی کارروائی کے ذریعے دوبارہ چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
عمل درآمد کرنے والی عدالت کے اختیارات
عدالت نے وضاحت کی کہ عمل درآمد کرنے والی عدالت اپنے دائرہ اختیار میں ڈگری پر عمل درآمد تو کر سکتی ہے، لیکن وہ اس کے دائرہ کار سے آگے نہیں جا سکتی اور نہ ہی ان حقوق میں تبدیلی کر سکتی ہے جو پہلے ہی طے ہو چکے ہوں۔
کیس کا پس منظر
کیس کے مطابق انوری بی بی کے ورثاء کا موقف تھا کہ بھکر میں گرلز اسکول ان کی زمین پر تعمیر کیا گیا ہے۔ انہوں نے زمین کی تقسیم اور اسکول کی تعمیر سے متعلق عدالتوں کے سابقہ فیصلوں کو بھی چیلنج کیا تھا۔
جسٹس روزی خان بریچ اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل بینچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ تفصیلی فیصلہ جسٹس سید ارشد حسین شاہ نے تحریر کیا۔
عدالتی استحکام اور قانون کی بالادستی
عدالت نے کہا کہ فیصلوں کا حتمی ہونا نظامِ انصاف کے تسلسل، قانونی یقین اور قانون کی بالادستی کے لیے ناگزیر ہے۔
- حتمی فیصلے کو صرف دھوکہ دہی، خامی یا دائرہ اختیار کی کمی کی صورت میں دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔
- ایک ہی تنازعے کو متعدد عدالتی فورمز پر لے جانا عدالتی عمل کا ناجائز استعمال ہے۔
- عمل درآمد کرنے والی عدالت طے شدہ حقوق میں تبدیلی نہیں کر سکتی۔
- عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ورثاء کی اپیل خارج کر دی۔
