جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 11 فیصد گر گیا، جاپانی نکئی 4 فیصد نیچے آگیا، اور امریکی چپ ساز اداروں AMD اور Nvidia کے شیئرز 5 فیصد تک لڑھک گئے۔ اتار چڑھاؤ سے بھرپور اسٹاک مارکیٹ میں، خاص طور پر جب بات ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی ہو، ایک خبر نے ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔
امریکی میڈیا دی انفارمیشن کے مطابق، چینی کمپنی شنگھائی یولیانگ شینگ نے الیکٹرانک چپس بنانے والی جدید ترین مشینوں کی تیاری شروع کر دی ہے، ایسے آلات جو چین کو اب تک بیرون ملک سے خریدنے پڑتے تھے۔p>
ڈیپ الٹراوائلٹ لیتھوگرافی کا کھیل
بظاہر یہ خبر پیچیدہ لگ سکتی ہے۔ شنگھائی یولیانگ شینگ نے ’ڈیپ الٹراوائلٹ امیرشن لیتھوگرافی‘ (DUV) نامی مشینوں کی صنعتی پیداوار شروع کر دی ہے۔ آسان الفاظ میں، یہ ٹیکنالوجی الٹراوائلٹ روشنی کے ذریعے خوردبینی سرکٹس کندہ کر کے انتہائی طاقتور الیکٹرانک چپس بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ چپس ہمارے اسمارٹ فونز سے لے کر ڈیٹا سینٹرز تک، ہر الیکٹرانک ڈیوائس کا دل ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی زیادہ تر پیش رفت بھی انہی پر منحصر ہے، جسے ہمیشہ زیادہ اور تیز تر چپس کی ضرورت رہتی ہے۔
تاہم، اس معلومات کے نتائج تکنیکی اصطلاحات سے کہیں زیادہ واضح ہیں۔ سب سے بڑھ کر، اس خبر نے یہ خدشہ پیدا کر دیا ہے کہ چین اس میدان میں امریکہ اور مغربی طاقتوں کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔
’چینی مقابلے کا سامنا‘
اب تک، یہ ٹیکنالوجی صرف ڈچ کمپنی ASML کے پاس تھی۔ لیکن چین مصنوعی ذہانت اور خاص طور پر کمپیوٹر چپس کے شعبے میں امریکہ کی طرف سے عائد کردہ سخت درآمدی پابندیوں کا شکار ہے۔
چینی کمپنیوں پر ASML کی مزید جدید ٹیکنالوجیز خریدنے پر پابندی ہے اور وہ پرانی (مگر پھر بھی انتہائی طاقتور) DUV مشینیں استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ اب چینی کمپنیاں انہی مشینوں کی تیاری میں خود کود پڑی ہیں۔
بہرحال، اعتدال ضروری ہے: چین آج ہی مغربی جدید ٹیکنالوجی کا مقابلہ نہیں کر پائے گا۔ دی انفارمیشن کا کہنا ہے کہ شنگھائی یولیانگ شینگ اس سال چینی کمپنیوں کو پہلی پانچ مشینیں فراہم کرے گی، جبکہ ASML نے 2025 میں 131 مشینیں فراہم کی تھیں۔
لیکن ان کی تیز رفتار ترقی امریکہ اور یورپ میں بڑی بے چینی پیدا کر رہی۔ پروایکٹو انویسٹرز کی تجزیہ کار انجیلا ہرمانٹس نے اے ایف پی کو بتایا، “برآمدی کنٹرول کا نظام چین کو تکنیکی طور پر چند سال پیچھے رکھے کے لیے تھا۔ لیکن DUV لیتھوگرافی سست ہونے کے باوجود جدید چپس کے لیے کافی ثابت ہو رہی ہے۔”
’توقع سے زیادہ تیزی سے فاصلہ کم کرنا‘
ایس پی آئی ایسٹ مینجمنٹ کے تجزیہ کار اسٹیفن انیس نے بھی اے ایف پی کو بتایا، “چینی نظاموں کو کل ہی ASML کے جدید ترین آلات کی برابری کرنے کی ضرورت نہی: چین کو صرف توقع سے زیادہ تیزی سے فاصلہ کم کرنا ہے تاکہ مغربی تکنیکی بالادستی کے تصور کو چیلنج کیا جا سکے۔”
یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب بڑی امریکی ٹیک کمپنیاں پہلے ہی شدید دباؤ میں ہیں۔ گوگل کی بنیادی کمپنی الفابیٹ اور ٹیسلا کو گزشتہ ہفتے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں مصنوعی ذہانت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے منصوبوں کی وجہ سے سزا ملی، جنہیں بہت غیر یقینی سمجھا گیا۔
