اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے جمعہ کے روز کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ، جنرل سید عامر رضا کو نشانِ امتیاز (ملٹری) سے نوازنے کی منظوری دے دی۔ یہ اعزاز ان کی شاندار فوجی خدمات اور ملک کے تزویراتی اثاثوں کی نگرانی میں کلیدی کردار کا اعتراف ہے۔
صدارتی سیکرٹریٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ صدر نے جنرل سید عامر رضا کو یہ اعلیٰ ترین فوجی اعزاز عطا کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔
تین دہائیوں پر محیط شاندار کیریئر
جنرل سید عامر رضا کا شمار پاک فوج کے انتہائی تجربہ کار اور پیشہ ور جرنیلوں میں ہوتا ہے۔ وہ اس سے قبل بھی نمایاں خدمات پر ہلالِ امتیاز (ملٹری) اور بہادری کے اعتراف میں ستارہِ بسالت جیسے اعزازات حاصل کر چکے ہیں۔ ان کا حالیہ نشانِ امتیاز دفاعی شعبے میں ان کی غیر معمولی قربانیوں اور قائدانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
نئی تزویراتی کمانڈ کا قیام اور تقرری
یہ اعزاز ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب 24 جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی بطور چیف آف جنرل اسٹاف ترقی دے کر انہیں فور اسٹار جنرل کے عہدے پر فائز کیا تھا۔ اس ترقی کے ساتھ ہی وزیراعظم نے ان کی بطور کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ تقرری کا بھی اعلان کیا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل عامر رضا کو ان کی ترقی اور اہم ذمہ داری پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔
نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا کردار
کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا عہدہ پاکستان کے دفاعی ڈھانچے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ عہدہ پاکستان آرمی، ایئر فورس اور نیوی (ترمیمی) بلز 2025 کی منظوری کے بعد وجود میں آیا۔ اسی قانون سازی کے تحت فیلڈ مارشل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کیا گیا تھا۔
نیا کمانڈ ڈھانچہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کے کردار کے خاتمے کے بعد تشکیل دیا گیا۔ جنرل شمشاد مرزا اس عہدے پر فائز ہونے والے آخری افسر تھے۔
ترمیم شدہ قانون کے مطابق، وزیراعظم کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ چیف آف آرمی اسٹاف (جو بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہیں) کی سفارش پر کسی بھی حاضر سروس پاک فوج کے جنرل کو تین سال کی مدت کے لیے کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ تعینات کر سکتے ہیں۔
ماضی کی اہم ذمہ داریاں
جنرل عامر رضا نے کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا عہدہ سنبھالنے سے قبل بھی پاک فوج میں انتہائی اہم اسائنمنٹس پر خدمات انجام دیں۔ وہ کور کمانڈر لاہور اور چیئرمین ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا جیسے حساس عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، جہاں انہوں نے اپنی انتظامی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
جنرل عامر رضا کو نشانِ امتیاز (ملٹری) کی منظوری ان کی طویل فوجی خدمات اور ملک کے دفاعی نظام کو مستحکم کرنے میں ان کے کردار کا باقاعدہ اعتراف ہے۔
