بیجنگ: چین کے اعلیٰ ترین سفارت کار نے مشرق وسطیٰ کے نازک جنگ بندی معاہدے میں شامل فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کا احترام کریں، اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں ایک دوسرے کو رعایتیں دیں گے۔ سرکاری میڈیا نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔
یہ بیان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کھلے مباحثے کے دوران اس وقت سامنے آیا جب ایران نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔ امریکی افواج نے جنوبی ایران میں میزائل تنصیبات کے ساتھ ساتھ بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی کشتیوں پر بھی حملے کیے تھے، جس سے جنگ کے خاتمے کے معاہدے کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
چین کی ثالثی کی کوششیں
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران نامہ نگاروں کو بتایا کہ چین تنازعے کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے اور اس نے اہم فریقین کے ساتھ رابطے اور تعاون کو برقرار رکھا ہوا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق وانگ یی نے کہا، “ہم امید کرتے ہیں کہ متعلقہ فریق جنگ بندی کے حصول کے لیے پرعزم رہیں گے اور ایک دوسرے کو رعایت دیتے رہیں گے، تاکہ جلد از جلد مشرق وسطیٰ میں امن لوٹ سکے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “ہم پاکستان اور دیگر ممالک کی فعال ثالثی کی حمایت کرتے ہیں، اور امریکہ اور ایران کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کی بھی حمایتتے ہیں۔” وانگ یی نے اس خواہش کا اعادہ کیا کہ تمام متعلقہ فریق “ایک دوسرے کو رعایت دیتے رہیں گے۔”
بگڑتی ہوئی صورت حال
یہ سفارتی پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب میدان جنگ میں کشیدگی عروج پر ہے۔ حالیہ امریکی حملوں نے اس نازک معاہدے کو شدید نقصان پہنچای ہے جس کی بدولت خطے میں عارضی سکون آیا تھا۔ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کی دھمکیوں نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کو ایک وسیع تر تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
چین نے عالمی سطح پر ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے، اور وانگ یی کا یہ تازہ ترین بیان بیجنگ کے اس موقف کی عکاسی کرتا ہے کہ سفارت کاری اور براہ راست مذاکرات ہی اس بحران کا واحد حل ہیں۔
یہ واضح نہیں ہے کہ چین کی اس اپیل کا فریقین پر کیا اثر پڑے گا، تاہم اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی برادری تیزی سے بگڑتی ہوئی صورت حال پر گہری تشویش میں مبتلا ہے اور جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
