پیرس: فرانس میں تمباکو نوشی کے خلاف جاری مہمات کے مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2025 کے دوران ملک میں تمباکو کی قانونی فروخت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.2 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار فرانسیسی آبزرویٹری برائے منشیات اور نشے کے رجحانات (OFDT) کی جانب سے بدھ کے روز جاری کیے گئے۔
2>تمباکو نوشی میں تاریخی کمی
نوجوانوں میں یہ کمی اور بھی متاثر کن ہے۔ جہاں 2010 میں 30.8 فیصد لائسیم کے طلباء روزانہ سگریٹ پیتے تھے، وہیں 2024 میں یہ شرح کم ہو کر محض 5.6صد رہ گئی۔
متبادل مصنوعات کا بڑھتا ہوا استعمال
تاہم، اس مثبت رجحان کے باوجود، تمباکو کی کچھ مخصوص مصنوعات کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حقے، پائپ اور بلنٹس (جوڑوں کو رول کرنے کے لیےگار کے پتے) جیسی مصنوعات کی فروخت میں 5.8 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ان ‘دیگر تمباکو مصنوعات’ کا مارکیٹ شیئر 2017 میں 3 فیصد سے بڑھ کر گزشتہ سال 8 فیصد تک پہنچ گیا۔
نوجوانوں میں ویپنگ کا خطرناک رجحان
سب سے زیادہ تشویشناک رجحان الیکٹرانک سگریٹ کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ OFDT کے مطابق، 2017 سے ویپنگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ 18 سے 75 سال کی عمر کے 6.1 فیصد افراد روزانہ ای سگریٹ استعمال کرنے کا اعتراف کرتے ہیں۔
نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں میں یہ شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2024 میں 4 فیصد لائسیم طلباء خصوصی طور پر روزانہ ویپتے تھے، جبکہ 2022 میں یہ صرف 0.8 فیصد تھی۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ بالغوں کے لیے ای سگریٹ نقصان میں کمی کا ایک ممکنہ ذریعہ ہو سکتی ہے، لیکن نوجوانوں کے لیے یہ ایک سنگین خطرہ ہے۔ OFDT کا کہنا ہے کہ سائنسی شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپ کرنے والے غیر تمباکو نوش نوجوانوں میں بعد میں سگریٹ نوشی شروع کرنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔>
خاص طور پر ‘پف’ جیسی مصنوعات، جن پر فرانس میں پابندی عائد کی جا چکی ہے، کو نوجوانوں میں نکوٹین کی لت کا ‘دروازہ’ قرار دیا گیا ہے۔
