جیفری ایپسٹین کے مقدمے میں ایک اہم نام، سابق ماڈلنگ ایجنٹ ڈینیئل سیاد، فرانس میں اپنے گھر میں مردہ پائے گئے ہیں۔ ان کی عمر 69 سال تھی اور وہ طویل عرصے سے جنسی جرائم اور انسانی سمگلنگ کے سنگین الزامات کا سامنا کر رہے تھے۔
دل کا دورہ پڑنے سے موت کا امکان
فرانسیسی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ڈینیئل سیاد پیرس کے قریب واقع قصبے کولومبس میں اپنی رہائش گاہ پر بے جان پائے گئے۔ ان کی 28 سالہ روم میٹ نے انہیں باورچی خانے میں مردہ حالت میں دیکھا اور ہمسایوں کو اطلاع دی۔ امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں لیکن انہیں بچایا نہ جا سکا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق موت کی وجہ دل کا دورہ بتائی جا رہی ہے۔ پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔
ایپسٹین فائلوں میں دو ہزار سے زائد بار نام
ڈینیئل سیاد کا نام امریکی وزارت انصاف کی جانب سے جاری کردہ ایپسٹین فائلوں میں 2000 سے زیادہ مرتبہ درج ہے۔ ان فائلوں میں سیاد کی جانب سے ایپسٹین کو بھیجی گئی متعدد ای میلز شامل ہیں، جن میں خواتین ماڈلز کی تصاویر اور ان کے جسمانی ناپ بیانات کے ساتھ موجود تھے۔ ان دستاویزات کے منظر عام پر آنے کے بعد متعدد خواتین نے ان کے خلاف گواہی دی۔
سویڈش ماڈل کے سنگین الزامات
سویڈش ماڈل ایبا کارلسن سمیت پانچ خواتین نے ڈینیئل سیاد پر ریپ اور انسانی سمگلنگ کے الزامات عائد کیے تھے۔ کارلسن کا الزام ہے کہ سیاد نے اس وقت ان کا جنسی استحصال کیا جب وہ صرف 20 سال کی تھیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیاد نے انہیں ایلیٹ ماڈلنگ ایجنسی کے سابق سربراہ جیرالڈ میری کے حوالے کیا، جہاں ان کے ساتھ ایک اور زیادتی ہوئی۔
ملزم کا مسلسل انکار
ڈینیئل سیاد نے اپنی زندگی میں ہمیشہ ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ وہ جیفری ایپسٹین کے پیرس اپارٹمنٹ میں کئی بار گئے، لیکن ان ملاقاتوں کو محض پیشہ ورانہ تعلق قرار دیا۔ سیاد نے دعویٰ کیا کہ وہ 10 سے 15 منٹ کی ان ملاقاتوں میں ماڈلز کو متعارف کرواتے اور پھر انہیں ساتھ لے کر واپس آ جاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ہرگز علم نہیں تھا کہ ایپسٹین ایک خطرناک شخص ہے اور یہ کہ ایپسٹین نے ان کے اعتماد کا غلط فائدہ اٹھایا۔
ایپسٹین فائلوں کی اشاعت کے بعد فرانسیسی عدلیہ نے اس کیس کے مالی اور جنسی استحصال دونوں پہلوؤں پر دوبارہ تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا۔
