geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • 83% of French Parents Report Verbally Abusing Their Childrenفرانس میں والدین کی بڑی تعداد بچوں کے ساتھ تشدد کا اعتراف، نئی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات
    • Why Turkey Eggs Are Rarely on Our Platesکیا آپ نے کبھی ترکی کے انڈے کھائے ہیں؟ غذائیت سے بھرپور مگر بازار میں نایاب
    • Crushed Empress Eugénie's Crown Revealed After Louvre Heistلوور میوزیم نے شہنشاہ نگار کے تاریخی تاج کی تباہ حال تصاویر جاری کردیں
    صحت و تندرستی
    • Pakistan Cracks Down on Unsafe Syringes Amid HIV Surgeایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز: ڈریپ کا غیر محفوظ سرنجوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا حکم
    • France Launches Spring COVID-19 Booster Campaign for Most Vulnerableفرانس میں موسم بہار کے لیے نئی کورونا ویکسینیشن مہم کا آغاز، بوڑھوں اور کمزور افراد کو ترجیح
    • Pakistan's HIV Crisis: Unsafe Injections Fuel 500% Death Surgeانجیکشن کلچر اور ناقص نفاذ نے پاکستان میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو ہوا دی
    دلچسپ اور عجیب
    • Humanoid Robots Shatter World Record in Half-Marathonانسانی روبوٹس نے نصف میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، چین میں انقلابی پیشرفت
    • Train Travel's Hidden Benefit: Stress Relief Through Sceneryٹرین کے سفر میں مناظر کو دیکھنا ذہنی صحت کے لیے مفید، نئی تحقیق میں انکشاف
    • 83% of French Parents Report Verbally Abusing Their Childrenفرانس میں والدین کی بڑی تعداد بچوں کے ساتھ تشدد کا اعتراف، نئی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Elon Musk Summoned by French Justice in X Investigationایلون مسک: فرانسیسی عدالت کے سامنے پیشی کا نوٹس اور ایکس کے خلاف تحقیقات
    • Humanoid Robots Shatter World Record in Half-Marathonانسانی روبوٹس نے نصف میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، چین میں انقلابی پیشرفت
    • EU's Age Verification App "Technically Ready" to Block Minorsیورپی یونین کا عمر کی تصدیق کرنے والا ایپ تیار، پندرہ سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا سے روکنے کی تیاری
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

کوپ 26: ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ملک معاہدے پر متفق کیوں نہیں ہو رہے؟

November 14, 2021 0 1 min read
Glasgow World Environment Conference
Share this:

Glasgow World Environment Conference

گلاسگو (اصل میڈیا ڈیسک) گلاسگو میں جاری عالمی ماحولیاتی کانفرنس، کوپ 26، میں وقت گزر جانے کے باوجود ابھی تک معاہدہ طے نہیں پا سکا۔ معاہدے کا تیسرا مسودہ بھی سامنے آ چکا ہے لیکن اسے منظور کرنے کے لیے 200 ملکوں کا متفق ہونا ضروری ہے۔

اقوام متحدہ کی عالمی ماحولیاتی کانفرنس کوپ 26 برطانیہ کی میزبانی میں گلاسگو میں جاری ہے۔ رات بھر مشاورت اور مذاکرات کا طویل سیشن جاری رہا جس کے بعد ہفتے کے روز میزبان ملک نے ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد ممکنہ معاہدے کا تیسرا مسودہ جاری کیا ہے لیکن مذاکرات اب تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے۔

نئے مسودے میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثرہ ممالک اور بڑے صنعتی ممالک کے مطالبوں میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں تیل اور دیگر قدرتی ایندھن برآمد کرنے والے ممالک کے خدشات کو بھی کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام ممالک کوئلے اور ماحولیات کے لیے نقصان دہ توانائی کے دیگر ذرائع (فوسل فیول) کو ترک کرنے کے لیے اپنی کوششوں میں تیزی پیدا کریں۔

مسودے میں ماحولیاتی مسائل اور معیشت سے متعلق پیدا ہونے والے اختلافات کو کم کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ بظاہر ماحولیاتی کانفرنس پر معیشت کا موضوع حاوی دکھائی دیا ہے۔

نئے منصوبے کے تحت امیر ممالک ایسے اداروں کو مالی معاونت فراہم کریں گے جو ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث بقا کے خطرے سے دوچار ممالک کو بچانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

تاہم امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے مزاحمت کے بعد مسودے سے ایسے الفاظ نکال دیے گئے ہیں جن میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہونے والی ‘تباہی اور نقصانات‘ کے ازالے کے لیے مخصوص مالی ذمہ داریوں کا ذکر تھا۔ صنعتی دور سے مستفید ہونے والے ترقی یافتہ ممالک کی مالی ذمہ داریوں سے متعلق یہ جملے غریب ممالک کے بنیادی مطالبات میں شامل تھے۔

تاہم نئے مسودے میں لکھا گیا کہ ‘افسوس کے ساتھ یہ بات نوٹ کی جا رہی ہے‘ کہ امیر ممالک نے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ پہلے کیا گیا وعدہ اب تک پورا نہیں کیا کہ وہ سالانہ سو ارب ڈالر کا الگ فنڈ قائم کریں گے اور اب انہوں نے اسے سن 2023 تک موخر کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ مسودے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اقوام عالم ‘منصفانہ منتقلی کی حمایت‘ کریں گی۔ یہ حوالہ دراصل ان ممالک کے فوسل فیول یا ضرر رساں توانائی سے پائیدار توانائی کی جانب منتقلی کے بارے میں ہے جن کی معیشت کا کوئلے اور دیگر فوسل فیول پر بہت زیادہ انحصار ہے۔

مسودے میں اقوام عالم سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اگلے برس کی ماحولیاتی کانفرنس سے متعلق اپنے اہداف کے بارے میں تفصیلات فراہم کریں۔

اس مسودے کو 200 سے زائد ممالک کی منظوری درکار ہے۔ یہ ممالک سن 2015 کے پیرس معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کی کوشش میں ہیں جس میں زمین کے درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری کم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

تازہ ترین مسودے میں ماہرین کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ زمین کے درجہ حرارت کو کم کر کے 1.5 ڈگری تک لانے کے لیے سن 2030 تک ضرر رساں گیسوں کے اخراج میں 45 فیصد کمی لانا پڑے گی۔

سماجی تنظیم آکسفیم سے تعلق رکھنے والی ٹریسی کارٹی نے معاہدے کے مسودے کے بارے میں کہا، ”یہ اب بھی ناکافی ہے۔ گلاسگو میں دنیا کے غریب ترین ممالک کو یکسر نظر انداز کیے جانے کا خطرہ دکھائی دے رہا ہے۔‘‘

گرین پیس انٹرنینشل کی سربراہ جینیفر مورگن نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوسل فیول کے بارے میں جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔

انہوں نے امریکا اور یورپی یونین کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، ”امریکا کو سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی نقصانات کے ازالے کے حوالے سے حمایت فراہم کرنا چاہیے۔ اس معاملے کو امریکا اور یورپی یونین اب نظر انداز نہیں کر سکتے۔‘‘

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی اہداف حاصل کرنے کے لیے اقوام عالم کے اب تک کے اقدامات ناکافی ہیں لیکن موجودہ مسودے میں شامل وعدوں پر عمل درآمد درست سمت کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ماہرین اور سماجی کارکنوں نے کوپ 26 کے دوران جرمنی کے کردار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ماحولیاتی امور کے ماہر یان کوالزش نے اپنے ایک انٹرویو میں جرمن سیاست دانوں پر الزام عائد کیا کہ وہ کاروں کی طاقتور صنعت کے مفادات کا تحفظ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ‘اِیمیشن فری کاروں‘ کی حمایت کرنے والے اتحاد میں شامل نہ ہو کر برلن حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کاروں کی صنعت کی ضروریات کو ماحولیات پر ترجیح دے رہی ہے۔

Share this:
Australia and New Zealand
Previous Post کینگروز یا کیویز، فتح کا تاج پہلی بار کس کے سر سجے گا؟ فیصلہ آج ہو گا
Next Post سوڈان میں فوجی بغاوت کے خلاف ممکنہ مظاہرے، فوج تعینات
Sudan Protests

Related Posts

Sarkozy Shifts Strategy in Libyan Funding Appeal Trial

نکولس سرکوزی کی لیبیا فنڈنگ کیس میں آزمائش: سابق صدر نے گوانٹ کے الزامات کی تردید کی لیکن پرانے ساتھی کو بچایا

April 29, 2026
US-Iran War: Truce Talks Continue Amid Strikes

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں، ٹرمپ کا ٹیلی فونک رابطے کا انکشاف

April 29, 2026
Pakistan Strikes Afghan Taliban in Operation Ghazab lil-Haq

آپریشن غضب للہ حق: افغان طالبان کے 796 دہشت گرد ہلاک، 286 چوکیاں تباہ

April 29, 2026
Pakistan Transfers Three IHC Judges Amid Controversy

اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کی منتقلی کا نوٹیفکیشن جاری

April 29, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.