واشنگٹن: معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے امریکہ میں ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے “ون پارٹی سسٹم” کو چیلنج کرنے کے لئے یہ جماعت بنارہے ہیں۔
ایلون مسک جو کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق اتحادی ہیں، نے کہا کہ وہ “امریکا پارٹی” کے نام سے ایک نیا سیاسی فریم ورک شروع کر رہے ہیں۔ مسک کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس لئے ناگزیر تھا کیونکہ وہ ملک کے دیوالیہ ہونے کے خطرے کو روکنا چاہتے ہیں۔
مسک نے سوشیل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، “جب بات ہمارے ملک کو فضول خرچی اور بدعنوانی سے دیوالیہ کرنے کی آتی ہے تو ہم ایک جماعتی نظام میں رہتے ہیں، نہ کہ جمہوریت میں۔ آج، امریکا پارٹی آپ کی آزادی واپس دینے کے لئے قائم کی گئی ہے۔”
مسک نے ایک سروے کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا وہ دو جماعتی (یا کچھ لوگ کہیں گے یونی پارٹی) نظام سے آزادی چاہتے ہیں۔ اس سروے میں 12 لاکھ سے زائد لوگوں نے حصہ لیا اور دو کے مقابلے ایک کے تناسب سے لوگوں نے نئی سیاسی جماعت کی حمایت کی۔
یہ واضح نہیں ہے کہ نئی جماعت 2026 کے وسط مدتی انتخابات یا اس کے دو سال بعد ہونے والے صدارتی ووٹ پر کتنا اثر ڈالے گی۔ ٹرمپ اور مسک کے درمیان حالیہ دنوں میں اختلافات بڑھ چکے ہیں، خاص طور پر جب ٹرمپ نے اپنے بڑے گھریلو منصوبے کو منظور کرانے کی کوشش کی۔
مسک نے اس قانون سازی کی سخت مخالفت کی اور اس کے حمایتیوں پر “قرض کی غلامی” کی حمایت کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ ان قانون سازوں کو چیلنج کریں گے جنہوں نے کم حکومتی اخراجات کا وعدہ کیا تھا لیکن اس بل کے لئے ووٹ دیا۔
مسک نے کہا کہ وہ صرف 2 یا 3 سینٹ کی نشستوں اور 8 سے 10 ہاؤس ڈسٹرکٹ پر توجہ مرکوز کرکے “فیصلہ کن ووٹ” بننے کی کوشش کریں گے۔ کچھ مبصرین نے نشاندہی کی کہ تاریخی طور پر تیسری جماعت کی مہمات ووٹ کو تقسیم کرتی ہیں۔
ایلون مسک کی نئی جماعت کا اعلان امریکی سیاست میں ایک نئے دور کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں وہ موجودہ نظام کو چیلنج کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔
