لندن کے تاریخی میدان لارڈز میںوار کو آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں میزبان انگلینڈ کا مقابلہ دفاعی چیمپئن آسٹریلیا سے ہوگا۔ دونوں ٹیموں نے اپنے سیمی فائنلز میں شاندار اور یکطرفہ کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے ٹائٹل کے معرکے میں جگہ بنائی۔
آسٹریلیا کا ویسٹ انڈیز پر آسان شکار
اوول میں کھیلے گئے پہلے سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے ویسٹ انڈیز کو آٹھ وکٹوں سے عبرتناک شکست دے کر فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔ آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا اور ویسٹ انڈین ٹیم کو مقررہ بیس اوورز میں 125 رنز پر روک دیا۔ جواب میں آسٹریلوی بلے بازوں نے نہایت جارحانہ انداز اپنایا اور صرف 13 اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان پر ہدف حاصل کر لیا۔
انگلینڈ کی جنوبی افریقہ پر دبنگ فتح
دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ نے جنوبی افریقہ کو 40 رنز سے شکست دی۔ جنوبی افریقہ کی کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا جو مہنگا ثابت ہوا۔ انگلش ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 169 رنز کا مضبوط مجموعہ کھڑا کیا۔ ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کی ٹیم دباؤ میں آگئی اور مقررہ اوورز میں آٹھ وکٹوں پر صرف 129 رنز ہی بنا سکی۔
خالی نشستوں کے خدشے کے بعد ایم سی سی کی اپیل
فائنل سے قبل میریلیبون کرکٹ کلب نے اپنے اراکین سے خصوصی اپیل کی ہے کہ وہ میدان میں آئیں اور لارڈز کی نشستیں بھریں۔ یہ اپیل اس لیے بھی اہم ہے کہ 2017 کے آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ فائنل کے دوران ممبران کے انکلوژر میں خالی نشستوں پر کلب کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، حالانکہ اس میچ میں انگلینڈ نے تقریباً 24 ہزار شائقین کے سامنے فتح حاصل کی تھی۔
فائنل کی اہمیت
یہ مقابلہ محض ایک ٹرافی کی جنگ نہیں بلکہ خواتین کرکٹ کے بڑھتے ہوئے قد کا ثبوت بھی ہے۔ انگلینڈ کو گھریلو میدان کا فائدہ حاصل ہے جبکہ آسٹریلیا اپنی مسلسل کارکردگی کی بدولت فیورٹ کے طور پر میدان میں اترے گا۔ کرکٹ شائقین کی نظریں اب لارڈز کے اس سنسنی خیز مقابلے پر جمی ہوئی ہیں۔
