برسلز: یورپی یونین نے چینی ای کامرس کمپنی علی ایکسپریس پر ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (DSA) کی خلاف ورزی پر 55 کروڑ یورو کا ریکارڈ جرمانہ عائد کر دیا۔ یہ سزا یورپی صارفین کو غیر قانونی اور خطرناک مصنوعات، خاص طور پر مضر صحت کھلونے اور جعلی کپڑے فروخت کرنے کی اجازت دینے پر دی گئی ہے۔
یورپی کمیشن نے دو سال سے زائد طویل تحقیقات کے بعد اعلان کیا کہ علی بابا کی ذیلی کمپنی علی ایکسپریس ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی۔ کمیشن کے مطابق، پلیٹ فارم پر غیر قانونی، مضر صحت اور جعلی مصنوعات کی فروخت سے متعلق خطرات کا مؤثر طریقے سے جائزہ لینے اور انہیں کم کرنے میں کوتاہی برتی گئی۔
جعلی اور خطرناک سامان کی بھرمار
کمیشن کی نائب صدر برائے ڈیجیٹل امور، ہینا ورکونن نے صحافیوں کو بتایا کہ مارچ 2024 میں تحقیقات شروع ہونے پر علی ایکسپریس کا ممنوعہ مصنوعات کی نشاندہی کا نظام مکمل طور پر ناکارہ تھا۔ انہوں نے کہا، “ہمیں بڑی تعداد میں جعلی اشیا کے علاوہ خطرناک کھلونے اور کاسمیٹکس بھی ملے جو طویل عرصے تک فروخت کے لیے دستیاب رہے۔”
ورکونن نے مزید وضاحت کی کہ خلاف ورزی کرنے والے فروخت کنندگان پر علی ایکسپریس کی جانب سے لگائی گئی پابندیاں بھی غیر مؤثر تھیں، کیونہ ان کی دکانیں طویل مدت تک فعال رہیں۔ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ بدنیت فروخت کنندگان مصنوعات کی تعمیل کی جانچ کے نظام کو باآسانی دھوکہ دے سکتے تھے، جس کی بڑی وجہ اس کام کے لیے مختص عملے کی کمی تھی۔
کمپنی کا دفاع اور اپیل کا ارادہ
علی ایکسپریس نے اے ایف پی کو جاری ایک بیان میں اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے جرمانے کو “غیر متناسب” قرار دیا۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ “یہ فیصلہ نہ تو ہمارے طے شدہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے اور نہ ہی ان اہم اور فعال اقدامات کی جو ہم نے نافذ کیے ہیں۔” کمپنی نے فوری طور پر اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان بھی کیا۔تین ماہ کی مہلت اور سخت شرائط
یورپی کمیشن نے علی ایکسپریس کو تین ماہ کی مہلت دی ہے کہ وہ ڈی ایس اے کے مطابق اپنی خامیوں کو دور کرنے کے لیےیک جامع منصوبہ پیش کرے۔ اگر کمپنی مقررہ وقت میں تعمیل کو یقینی بنانے میں ناکام رہی تو اس پر مزید وقفے وقفے سے جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔
یہ سخت کارروائی اس وقت سامنے آئی ہے جب یورپی یونین نے حالیہ مہینوں میں چینی مقابلے، جسے اکثر غیر منصفانہ سمجھا جاتا ہے، سے اپنی منڈی کو بچانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان میں چھوٹے درآمدی پارسلوں پر کم از کم 3 یورو کا ٹیکس بھی شامل ہے۔ تاہم، کمیشن نے اس بات کی تردید کی کہ علی ایکسپریس کو اس کی چینی اصل کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہینا ورکونن نے زور دے کر کہا کہ “ہم کئی آن لائن پلیٹ فارمز کی تحقیقات کر رہے ہیں جن میں سے کئی امریکہ، چین اور خود یورپ میں بھی قائم ہیں، اور ہم ان کی اصل کو نہیں دیکھتے، کیونکہ جو بھی یورپ میں کام کرنا چاہتا ہے اسے یکساں قوانین کا احترام کرنا ہوگا۔”
