یورپ میں اوسط عمر میں اضافہ کی رفتار سست

یورپ میں اوسط عمر میں اضافے کی رفتار 2011 سے سست ہو گئی ہے، جبکہ چند ممالک جیسے کہ ناروے میں یہ اضافہ جاری رہا۔ اس کے برعکس، کووڈ کے دوران بعض جگہوں پر اوسط عمر میں کمی بھی دیکھی گئی۔ صحتِ عامہ اور طب کے میدان میں بیسویں صدی کے دوران ہونے والی ترقی نے یورپ میں اوسط عمر کو ہر سال بڑھانے میں مدد دی، لیکن اب ایسا نہیں رہا۔ یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا کے نوریچ میڈیکل اسکول کے پروفیسر نکولس اسٹیل کے مطابق، حالیہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ 2011 کے آس پاس سے اوسط عمر میں اضافے کی رفتار میں کمی آئی ہے۔

اس تحقیق میں بتایا گیا کہ 1990 کی دہائی سے امراضِ قلب اور سرطان کی بہتر علاج کی وجہ سے اعلی عمر میں اموات میں بڑی کمی آئی تھی۔ تاہم، موٹاپا، جسمانی غیر فعالیت اور ناقص غذا اب اوسط عمر کے اضافے میں رکاوٹ بن رہے ہیں، اور صحتِ عامہ کی پالیسیاں ان مسائل پر قابو پانے میں ناکام نظر آتی ہیں۔

محققین نے گلوبل برڈن آف ڈیزیزز پروگرام کے تحت 160 سے زائد ممالک اور علاقوں کے صحت اور اموات کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا۔ انہوں نے بیس یورپی ممالک کی اوسط عمر، اموات کی وجوہات، اور مختلف خطرات کے عوامل کا موازنہ تین ادوار (1990-2011، 2011-2019، 2019-2021) کے دوران کیا۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ اوسط عمر میں اضافے کی رفتار میں کمی کا آغاز کووڈ-19 کی وبا سے پہلے ہی ہو چکا تھا، اور یہ کمی 2011 سے تیز ہو گئی تھی۔

تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ناروے، آئس لینڈ، سویڈن، ڈنمارک اور بیلجیم میں مضبوط سرکاری پالیسیوں کی بدولت اوسط عمر میں اضافے کی رفتار کو برقرار رکھا گیا۔ ان ممالک میں کارڈیو ویسکولر اور سرطان کے خطرات پر قابو پانے کے لیے بہتر اقدامات کیے گئے۔ اس کے برعکس، برطانیہ نے 2011 کے بعد اور کووڈ-19 کے دوران سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کیا، جس کی بڑی وجہ ناقص غذا تھی۔

پروفیسر اسٹیل کے مطابق انسانی عمر کی حد ابھی تک نہیں پہنچی، اور اوسط عمر میں اضافے کا زیادہ تر تعلق کم عمر میں اموات کی شرح سے ہے۔ تحقیق کے مطابق، اوسط عمر بڑھانے کے لیے کم عمری سے ہی صحت مند غذا، جسمانی سرگرمی، اور موٹاپے کے خلاف اقدامات کرنا لازمی ہے۔

یہ تحقیق اس بات کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ جو ممالک بہتر صحت کے پروگراموں پر عمل پیرا ہیں، وہ کووڈ-19 جیسی صحت کی ہنگامی صورتحال کو بہتر طریقے سے سنبھال سکتے ہیں۔ اس طرح، صحت عامہ کی مضبوط پالیسیاں نہ صرف اوسط عمر میں اضافے کو ممکن بناتی ہیں بلکہ وبائی امراض کے دوران بھی تحفظ فراہم کرتی ہیں۔