عدالتی فیصلے نے قانون کی بالادستی کا واضح پیغام دیا
ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی سابق خفیہ ادارے کے سربراہ کو عدالت نے اختیارات کے ناجائز استعمال کے جرم میں سزا سنائی ہے۔ یہ فیصلہ قانون کے سامنے سب برابر ہونے کے اصول کی ایک اہم عملی تصویر قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات
عدالت نے ثابت ہونے والے الزامات کی بنیاد پر سابق ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو مجرم قرار دیا ہے۔ یہ مقدمہ ان کے دورِ عہدہ میں طاقت کے ناجائز استعمال سے متعلق تھا۔
سیاسی ردعمل
فیصلے پر وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ یہ “سچ اور انصاف کی فتح” ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ثبوت ہے کہ ملک میں کوئی بھی فرد قانون سے بالاتر نہیں۔
اہمیت
ماہرین کے مطابق یہ تاریخی فیصلہ درج ذیل نکات کی نشاندہی کرتا ہے:
- جمہوری اداروں کی مضبوطی
- عدالتی نظام کی خودمختاری
- احتساب کے عمل میں شفافیت
یہ واقعہ ملک میں احتساب کے نئے دور کے آغاز کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں طاقت کے ہر مرکز کو جوابدہ بنانے پر زور دیا گیا ہے۔