وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے مالیاتی اصلاحات اور آئینی حقوق پر جامعاتی مکالمے کا مطالبہ کیا

پشاور: صوبائی حکومت کی جانب سے وفاق سے مالیاتی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان آفریدی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صوبے کے آئینی حقوق کے تحفظ اور مالیاتی نظام میں بنیادی اصلاحات کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ خیبرپختونخوا کو اس کے حقیقی مالیاتی حصے سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

آئینی حقوق پر قومی مکالمے کی ضرورت

وزیر اعلیٰ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے آئینی و مالی مسائل پر ملک بھر کی جامعات اور دانشوروں کو مکالمے میں شامل ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ صرف خیبرپختونخوا کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے وفاق کی سالمیت کا معاملہ ہے۔ ہمیں ایک ایسا مالیاتی فارمولا درکار ہے جو آئین کے مطابق ہو اور صوبوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔”

نیشنل فنانشل کمیشن (NFC) ایوارڈ پر عملدرآمد کا مطالبہ

انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ NFC ایوارڈ پر مکمل طور پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے صوبے کو سالانہ اربوں روپے کے مالیاتی نقصان کا سامنا ہے۔ یہ وسائل ترقیاتی منصوبوں، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں استعمال ہو سکتے ہیں۔

سیاسی جماعتوں سے یکجہتی کی اپیل

آفریدی نے صوبائی و وفاقی سطح پر تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ خیبرپختونخوا کے بنیادی آئینی و مالی حقوق کے تحفظ کے لیے یک آواز ہوں۔ انہوں نے کہا کہ “یہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے صوبے کا مسئلہ ہے۔ ہمیں اس پر متحد ہو کر بات کرنی چاہیے۔”

ماہرین کا خیال ہے کہ وزیر اعلیٰ کی یہ تقریر وفاق اور صوبوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری مالیاتی تنازعے میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔