واشنگٹن: امریکہ کی سب سے بڑی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی ایف بی آئی کے نائب ڈائریکٹر اینڈریو بیلی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے ایک سال سے کچھ زیادہ عرصے تک اس اہم عہدے پر خدمات انجام دیں۔ بیلی، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں، نے اپنے استعفے کی وجہ خاندان کے پاس واپس جانا قرار دیا ہے۔
ایف بی آئی میں بیلی کا کردار
اینڈریو بیلی نے مسوری کے اٹارنی جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دے کر ایف بی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل کے تحت خدمات انجام دے رہے تھے اور انہوں نے انتخابات سے متعلق تحقیقات کی نگرانی میں اہم کردار ادا کیا۔ رواں سال کے اوائل میں جب ایجنٹوں نے جارجیا سے 2020 کے انتخابی بیلٹ ضبط کیے تو بیلی اس موقع پر موجود تھے۔
بیلی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ڈائریکٹر پٹیل ایف بی آئی میں اصلاحات، پرتشدد جرائم کے خلاف کارروائی، وطن کے دفاع، تنظیمی جوابدہی اور اس ادارے پر عوام کے اعتماد کی بحالی کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
نائب ڈائریکٹر کے عہدے کی روایت سے انحراف
ایف بی آئی میں نائب ڈائریکٹر کا عہدہ روایتی طور پر غیر سیاسی سمجھا جاتا رہا ہے اور اس پر کیریئر ایف بی آئی افسران کو تعینات کیا جاتا تھا۔ تاہم، ٹرمپ انتظامیہ نے ایجنسی میں اپنے ایجنڈے کے مطابق تبدیلیاں کرتے ہوئے اس عہدے پر سیاسی ساتھیوں کو تعینات کیا ہے۔
ڈین بونگینو کی رخصتی اور نئی قیادت
بیلی کو ابتدائی طور پر ڈین بونگینو کے ساتھ مشترکہ نائب ڈائریکٹر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔ بونگینو، جو سابق امریکی سیکرٹ سروس ایجنٹ اور کنزرویٹو پوڈ کاسٹر ہیں، جنوری میں ایف بی آئی سے رخصت ہو گئے تھے۔ حال ہی میں تجربہ کار ایف بی آئی اہلکار کرسٹوفر رایا نے بیلی اور پٹیل کے ساتھ تین رکنی قیادت کے ٹیم کے حصے کے طور پر خدمات انجام دیں۔
ایپسٹین کیس اور اندرونی تناؤ
بیلی کی ایف بی آئی میں شمولیت کاش پٹیل کی جانب سے کئی متنازع فیصلوں کے بعد عمل میں آئی تھی۔ ان فیصلوں میں مرحوم جنسی مجرم اور مالیاتی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین سے متعلق تفتیشی فائلوں کی ناقص ہینڈلنگ بھی شامل تھی، جس نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سیاسی مشکلات اور محکمہ انصاف میں اندرونی کشیدگی پیدا کی تھی۔
وسط مدتی انتخابات سے قبل اہم رخصتی
ایف بی آئی میں یہ تازہ ترین اہم رخصتی امریکی وسط مدتی انتخابات سے تقریباً پانچ ہفتے قبل سامنے آئی ہے، جن میں کانگریس کا کنٹرول طے ہوگا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو غیر امریکی شہریوں کی جانب سے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی تحقیقات کے لیے متحرک کیا ہے۔
بیلی نے اپنے دور میں ٹرمپ انتظامیہ کی انتخابی امور سے متعلق تحقیقات کے انتظام میں مدد کی۔ ایف بی آئی نے کئی ریاستوں کے انتخابی ریکارڈ کا جائزہ لیا ہے، لیکن اب تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جو ٹرمپ کے اس غلط دعوے کی تصدیق کرے کہ 2020 میں بڑے پیمانے پر ووٹر فراڈ کی وجہ سے انہیں شکست ہوئی۔
