نیند میں گرنے کا احساس: سوتے وقت گرنے کی کیفیت سے کیوں گزرتے ہیں؟

بسااوقات جب ہم سونے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں گرنے کا احساس ہوتا ہے، ایک احساس جسے انگریزی میں “فوُل اسلیپ” کہتے ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ احساس واقعی بھی ہو سکتا ہے۔

جب ہم سونے کی تیاری کرتے ہیں تو یہ کہاوت “نیند میں گرجانا” ہمارے سامنے آتی ہے، جو درحقیقت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہم نیند کی مزاحمت کرنے سے قاصر ہیں۔ نیند کے آغاز میں پورے جسم میں یکلخت سکون اور آرام کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، جو بعض اوقات اچانک جھٹکے سے جاگنے کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ کیفیت جسمانی پٹھوں کی اچانک اور مختصر سکڑاؤ کی وجہ سے ہوتی ہے، جسے طبی زبان میں ‘مائیوکلونیا’ یا آسان الفاظ میں ‘نیند کی جھٹکی’ کہا جاتا ہے۔

یہ غیر معمولی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ حیرت انگیز طور پر عام واقعہ ہے، جسے ساٹھ سے ستر فیصد افراد وقتاً فوقتاً محسوس کرتے ہیں۔ اس جھٹکی کے ساتھ کبھی کبھی قدرتی طور پر ‘سمیسٹھیٹک ہالو سینیشن’ یعنی جسمانی اور حسی احساسات والی ہالو سینیشن بھی ہو سکتی ہے، جو ہمیں ‘گرتے ہوئے’ محسوس کراتی ہے۔

سائنسدانوں کے لیے اس کا حقیقی سبب مکمل طور پر واضح نہیں ہے، تاہم ایک ممکنہ وضاحت یہ ہے کہ سوتے وقت ہمارے ماغ کی کوئی غلط فہمی ہوتی ہے جو اسے جسمانی حرکت کی عدم موجودگی سے مطمئن کرنے کی کوشش میں اچانک حرکت کے سگنل بھیجتی ہے، جس کی وجہ سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے۔

یہ ایک تسلی بخش اور غیر نقصان دہ عمل ہے جو جسمانی یا دماغی صحت پر براہ راست اثر انداز نہیں ہوتا، بس نیند کے دوران ایک دلچسپ تجربہ ہے جو اکثر لوگوں کیساتھ ہوتا ہے۔