پیرس کے سولہویں آرونڈسمینٹ میں واقع ایک کتاب کی دکان میں سابق صدر کی کتاب ‘لی ژورنل ڈی’ن پرزونیئر’ کی دستخطی تقریب میں خلل ڈالا گیا۔
پیرس: سابق فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی کی کتاب کی دستخطی تقریب میں مداخلت کرنے پر دو فیمینسٹ کارکنوں کو بدھ کے روز حراست میں لے لیا گیا۔ یہ واقعہ پیرس کے سولہویں آرونڈسمینٹ میں واقع ایک کتاب کی دکان میں پیش آیا جہاں سرکوزی اپنی نئی کتاب ‘لی ژورنل ڈی’ن پرزونیئر’ (قیدی کی ڈائری) دستخط کر رہے تھے۔
رپورٹس کے مطابق، فیمین نامی تنظیم سے تعلق رکھنے والی کارکنوں نے تقریب کے دوران نعرہ لگایا: “کیس ٹوئے پوور کون!”۔ یہ وہی جملہ ہے جو خود نکولس سرکوزی نے فروری 2008 میں ایک زرعی میلے کے دورے کے دوران ایک شہری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا۔
پولیس کی فوری کارروائی
واقعے کے بعد پولیس نے فوری طور پر مداخلت کی اور دونوں خواتین کارکنوں کو موقع سے ہی گرفتار کر لیا۔ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے کارکنوں کو کتاب کی دکان کے قریب ہی حراست میں لے لیا۔
سرکوزی کی نئی کتاب کے بارے میں
سابق صدر سرکوزی کی یہ کتاب ‘لی ژورنل ڈی’ن پرزونیئر’ بدھ ہی کے روز فایارڈ پبلیکیشنز نے شائع کی ہے۔ اس کتاب میں سرکوزی نے پیرس کی لا سانتی جیل میں اپنے قیام کے تین ہفتوں کا احوال بیان کیا ہے۔ یہ دور 21 اکتوبر سے 10 نومبر تک محیط ہے جب انہیں لیبیا مقدمے میں سزا سنائے جانے کے بعد حراست میں رکھا گیا تھا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب سرکوزی کی نئی کتاب کے حوالے سے میڈیا میں بحث جاری ہے۔ کتاب میں نہ صرف ان کی حراست کا احوال ہے بلکہ فرانس کی سیاسی صورتحال بشمول نیشنل رالی پارٹی کے بارے میں ان کے خیالات بھی شامل ہیں۔
