پیرس: فرانس میں جاری شدید گرمی کی لہر اور نظامِ صحت پر بڑھتے ہوئے ناقابلِ برداشت دباؤ کے پیش نظر حکومت نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے قومی سطح پر ‘اورسان پلان’ کی تیسری اور اعلیٰ ترین سطح کو متحرک کر دیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس اقدام کو “صحت کی سب سے بڑی متحرک کاری” قرار دیا ہے۔
یہ فیصلہ وزیر صحت کی جانب سے کیا گیا، جس کے تحت اب صورتحال ‘بحرانی انتظام’ کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی اقدام ہسپتالوں پر بڑھتے بوجھ کو کم کرنے کے لیے ناگزیر تھا۔
صحت کے شعبے میں فوری اصلاحات اور نفری میں اضافہ
اس پلان کے فعال ہونے کے بعد ملک بھر کے ہسپتالوں میں فوری طور پر درج ذیل اقدامات کیے جائیں گے:
- ہسپتالوں کے عملے میں اضافہ، خاص طور پر قومی طبی ریزرو فورس کو طلب کر کے۔
- ہسپتالوں، شہری ڈاکٹروں، نجی کلینکس اور سماجی و طبی مراکز کے درمیان بہتر رابطہ کاری۔
- غیر ہنگامی سرجریوں کو مؤخر کر کے ہیٹ ویو سے متاثرہ مریضوں کے لیے وسائل کو یقینی بنانا۔
وزیرِ اعظم نے اپنے بیان میں زور دے کر کہا، “پہلے دن سے ہمارا مقصد ایک ہی ہے: اپنے نظامِ صحت کو طویل مدت تک فعال رکھنا اور سب سے زیادہ کمزور افراد کا تحفظ کرنا۔”
ایمرجنسی رومز میں مریضوں کی تعداد میں چار گنا اضافہ
وزارتِ صحت نے پریس کانفرنس کے دوران اس سخت فیصلے کا جواز پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہسپتالوں کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس میں آنے والے مریضوں کی تعداد میں اچانک بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ایمرجنسی رومز میں آنے والے مریضوں اور ‘ایس او ایس ڈاکٹرز’ کو موصول ہونے والی کالز میں چار گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے نظام پر دباؤ کو عروج پر پہنچا دیا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گرمی کے جسمانی اثرات فوری طور پر سامنے نہیں آتے۔ وزارت نے بھی اس تاخیری اثر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “اگرچہ آنے والے دنوں میں درجہ حرارت کم ہونے کی توقع ہے، لیکن جسم پر گرمی کے اثرات ظاہر ہونے میں کئی دن لگ سکتے ہیں، اس لیے نظام پر دباؤ بدستور شدید رہے گا۔”
قومی سطح پر پہلی بار تاریخی نفاذ
یہ اقدام اس لیے بھی غیر معمولی ہے کیونکہ ‘اورسان پلان’ کی دوسری سطح کو صرف دو روز قبل ہی فعال کیا گیا تھا، لیکن صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر اسے براہِ راست تیسرے درجے تک لے جایا گیا۔ عام طور پر یہ منصوبہ علاقائی سطح پر نافذ کیا جاتا ہے، لیکن اس بار پہلی مرتبہ پورے ملک میں اسے نافذ العمل کیا گیا ہے۔
سنہ 2016 میں تخلیق کردہ ‘اورسان’ نظام کا مقصد غیر معمولی صحت کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے نظامِ صحت کے ردعمل کو منظم کرنا ہے۔ اس وقت جس ‘ایپی-کلیم’ شاخ کو متحرک کیا گ ہے، وہ خاص طور پر موسمی وباؤں اور ہسپتالوں میں بڑھتے ہوئے دباؤ جیسی صورتحال کے لیے بنائی گئی ہے۔
ہسپتالوں میں وسائل کی کمی، عملے کی ‘جگاڑ’ پر انحصار
دوسری جانب، ہسپتالوں کی تنظیموں اور عملے نے حکومت کے اس دعوے پر تنقید کی ہے اور بتایا ہے کہ گرمی سے نمٹنے کے لیے زیادہ تر ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ ان کے مطابق، ملک کے بیشتر طبی مراکز میں ایئر کنڈیشننگ موجود نہیں ہے۔ عملہ مجبوراً کھڑکیوں پر ایمرجنسی کمبل لٹکانے، سپر مارکیٹوں سے خریدے گئے موبائل کولرز اور پنکھوں جیسے عارضی اور ناکافی طریقوں پر انحصار کر رہا ہے۔ طبی پیشہ ور افراد اس صورتحال کو “جگاڑ” سے تعبیر کر رہے ہیں۔
