پیرس میں منعقد ہونے والا “مصنوعی ذہانت کے لیے عمل کا سمٹ” دنیا کے نامور رہنماؤں اور مصنوعی ذہانت کے اہم کھلاڑیوں کو ایک جگہ جمع کر رہا ہے۔ یہ سمٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ فرانس نے اس شعبے میں ایک مرکزی مقام حاصل کر لیا ہے، جہاں اعلیٰ تعلیمی ادارے، سرکاری حمایت اور ایک مثبت نظریہ موجود ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس موقع پر اہم اعلان کیے ہیں، جن میں 109 ارب یورو کی سرمایہ کاری کا وعدہ شامل ہے، جو ملک میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کا باعث بنے گا۔ تاہم، اس مقابلے میں چین اور امریکہ کی طاقتیں بھی پیش پیش ہیں، جو اس شعبے میں برتری حاصل کرنے کے لیے بڑی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
فرانس کی ترقی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اسے مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک مضبوط آغاز مل چکا ہے۔ 2018 میں، “مشن ویلیانی” نے ایک قومی حکمت عملی کا آغاز کیا، جس کے تحت 2.5 ارب یورو کی سرمایہ کاری کی گئی۔ اس حکمت عملی کا مقصد تحقیق، جدت اور اقتصادی اطلاق کے شعبوں کو منظم کرنا تھا۔ اس میں سے زیادہ تر سرمایہ کاری تحقیق کے لیے مختص کی گئی، جس کی بدولت نئی ملازمتیں اور پروگرامز شروع ہوئے۔
فرانس کا تعلیمی نظام بھی اس کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہاں کے اعلیٰ تعلیمی ادارے دنیا میں بہترین سمجھے جاتے ہیں، جہاں ریاضی اور سائنسی علوم میں مہارت حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، امریکی ٹیک کمپنیاں بھی فرانس میں تحقیقاتی لیبارٹریز قائم کر رہی ہیں، جس سے مقامی ماہرین کو مزید مواقع مل رہے ہیں۔
لیکن، کیا یہ سب کچھ فرانس کو امریکہ کی سطح تک پہنچا سکتا ہے؟ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں۔ فرانس کے لیے یہ مشکل ہے کہ وہ ایک “گوگل” یا “ایمیزون” جیسی کمپنی بنائے۔ تاہم، امید کی ایک کرن یہ ہے کہ چھوٹے، متحرک اور باصلاحیت گروپ بھی متاثر کن کام کر سکتے ہیں۔
فرانس نے ایک “اوپن سورس” ماڈل کو اپناتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی میں سب کا فائدہ ہو۔ صدر میکرون نے اس بارے میں کہا کہ وہ ایک ایسی مصنوعی ذہانت کی تحریک کی حمایت کرتے ہیں جو سب کے لیے دستیاب ہو اور وسائل کی بچت کرے۔
فرانس کی حکمت عملی کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ وہ ایک “فروغ پذیر” مصنوعی ذہانت کے ماڈل کی ترویج کر رہا ہے، جو کم توانائی اور کم مواد کا استعمال کرتی ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف ماحولیاتی اثرات کو کم کرنا ہے بلکہ ان ٹیکنالوجیز کو بھی زیادہ قابل رسائی بنانا ہے۔
فرانس کی ترقی کی راہ میں کئی چیلنجز موجود ہیں، لیکن اس کا عزم ثابت ہے کہ وہ اس میدان میں آگے بڑھتا رہے گا۔ حکومتی اقدامات، تعلیمی اداروں کی مہارت، اور انویٹوٹروں کی محنت مل کر ایک نئی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ اس طرح، فرانس نے مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں ایک اہم مقام حاصل کر لیا ہے، جو مستقبل میں مزید ترقی کی راہیں کھولے گا۔