پیرس: یونینز کی نئی اتحادی تنظیم نے فرانس کی حکومت کے بجٹ 2026 کے خلاف 18 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال اور احتجاج کی کال دی ہے۔ فرانکوئس بیرو کی قیادت میں پیش ہونے والا یہ منصوبہ وسیع پیمانے پر تنقید کا شکار ہے، جسے “خوفناک بجٹ” کا نام دیا جا رہا ہے۔
جمعہ 29 اگست کو پیرس میں CFDT کے صدر دفتر میں یونینز کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف یونینز کے نمائندے شامل ہوئے، جن میں CFDT، CGT، FO، CFE-CGC، CFTC، Unsa، FSU اور Solidaires شامل ہیں۔ اس موقع پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ 18 ستمبر کو بجٹ منصوبے کے خلاف ہڑتال کی جائے گی، جب کہ اس سے پہلے 10 ستمبر کو بھی احتجاج کی کال دی جا چکی ہے۔
یونینز نے پہلے ہی 360,000 دستخطوں کے ساتھ ایک پٹیشن تیار کی ہے جو “خوفناک بجٹ” کے خلاف عوامی ردعمل کو منعکس کرتا ہے۔ فریقین نے طے کیا ہے کہ وہ واضح مطالبات اور ہڑتال کے اہداف کو مزید موثر بنائیں گے۔
### 10 ستمبر کی احتجاجی تاریخ پر اختلافات
یونینز اور دیگر مزاحمتی گروہ 10 ستمبر کو بھی مظاہرے کا انعقاد کرنے جا رہے ہیں، جو کہ 2018 کے گلیڈز جالس جیسی تحریک کا تکرار کرتی نظر آتی ہے۔ CGT اس تحریک کی حمایت کر رہی ہے، تاہم اس کی سربراہ صوفی بینیت نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تحریک پر انتہا پسند دائیں بازو کا اثر ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف، Solidaires اور Force Ouvrière جیسی یونینز نے بھی 10 ستمبر کے مظاہروں کی حمایت کا اعلان کیا ہے، اگرچہ CFDT اس تاریخ کو تحریک کی حمایت نہیں کر رہی ہے۔ یونین کی سربراہ ماریلیز لیون کا کہنا ہے کہ “سب کچھ بند کر دینا” ان کی تنظیم کا طریقہ نہیں ہے۔
یہ وقت فرانس کی سیاست اور معیشت کے لیے اہم ہے، جب کہ مختلف یونینز اور سیاسی جماعتیں اپنے اپنے خطوط پر مظاہروں اور دیگر حکمت عملیوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ 18 ستمبر کو ہونے والا ملک گیر احتجاج بجٹ کی مذمت کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
