فرانس میں اقتصادی بحران پر وزیر اعظم فریانسو بیان

فرانس کی اقتصادی صورتحال پر خطرناک لہر، فرانس کی حکومت کے لئے نئی چیلنجز کا آغاز ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم فریانسو بائرو نے حالیہ کانفرنس میں یہ بتاتے ہوئے عوام کو آگاہ کیا کہ ملک کی اقتصادی حالت تشویشناک ہے، اور اس کی فوری درستگی ناگزیر ہے۔

بائرو کی حکومت 8 ستمبر کو پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ مانگے گی تاکہ بجٹ کو بہتر بنانے کے لئے کٹوتیوں کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ حکومت گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال کے لئے بجٹ خسارے کو 5.4 فیصد تک محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف عوامی بھلائی کے لئے ہے بلکہ یورپی اداروں کے معیار کو بھی پورا کرنے کے لئے اہم ہے جنہوں نے فرانس پر 3 فیصد کی حد قائم کر رکھی ہے۔

فرانس کی موجودہ سرکاری قرضے کی صورتحال بھی مزید خطرناک ہو چکی ہے، جو مارچ 2025 تک 3,345.8 ارب یورو کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے، جو جی ڈی پی کا 114 فیصد ہے۔ یہ قرضہ حکومت کے مالی معاملات کے لئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

قرضوں کے سود کو ادا کرنے میں بھی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ 2025 میں فرانس کو قرضوں کے سود کی ادائیگی میں 66 ارب یورو خرچ کرنا پڑ رہے ہیں، جو کہ 2018 میں محض 35 ارب یورو تھیں۔ اس صورتحال نے حکومت کو دفاعی اور تعلیمی بجٹ سے زیادہ سود کی ادائیگی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالات تشویشناک ہیں، فرانسیسی معیشت کی مستحکم ساخت اور عالمی مالیاتی مارکیٹ میں اس کی مضبوط ساکھ حکومت کے لئے کچھ حد تک ریلیف کا باعث بن سکتی ہے۔ فرانس کی معیشت میں کئی طرح کی سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں جو عالمی سرمایہ کاروں کو وافر تعداد میں اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

مختصراً، فرانس اس وقت اقتصادی عدم توازن کا شکار ہے، جہاں ایک طرف مقروض حکومت موجود ہے جو بجٹ کی اصلاحات کے بغیر ترقی کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جبکہ دوسری طرف مضبوط معیشت کے عالمی اعتماد کو برقرار رکھنے کا بھی دباؤ ہے۔ اس ناہموار توازن کا سامنا کرتے ہوئے فرانس کو محتاط اقدامات اور موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ قومی حياتی ضروریات اور معاشی ترقی کو ہم آہنگ کیا جا سکے۔