پیرس: فرانس میں تاریخی گرمی کی لہر کے ہولناک اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ وزیر صحت سٹیفینی رسٹ نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ 22 جون کے ہفتے کے دوران کم از کم 2,025 اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ یہ اعداد و شمار محض ابتدائی ہیں اور ان میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ابتدائی اعداد و شمار، حتمی نقصان کا انتظار
ٹی ایف 1 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر رسٹ نے وضاحت کی کہ یہ اعداد و شمار تقریباً 60 فیصد ڈیتھ سرٹیفکیٹس پر مبنی ہیں، جن میں سے زیادہ تر الیکٹرانک ہیں۔ انہوں نے کہا، “کاغذی ڈیتھ سرٹیفکیٹس کو ابھی تک یکجا نہیں کیا گیا ہے، اس لیے یہ تعداد آنے والے دنوں میں ہو سکتی ہے۔”
وزیر صحت نے مزید بتایا کہ سرکاری ادارہ ‘سانتے پبلک فرانس’ تین ہفتوں کے اندر حتمی اور جامع اعداد و شمار جاری کرے گا، جس سے نقصان کی اصل صورتحال واضح ہوگی۔ تاہم، انہوں نے احتیاط کا دامن نہیں چھوڑا اور کہا کہ مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 5,000 سے تجاوز کرنے کا امکان کم ہے۔
گھروں میں تنہا افراد کی اموات میں خطرناک اضافہ
اعداد و شمار کے سب سے تشویشناک پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے وزیر رسٹ نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں گھروں میں ہونے والی اموات میں 91 فیصد کا غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ یہ رجحان سانتے پبلک فرانس کی ابتدائی رپورٹ میں بھی سامنے آیا تھا۔
انہوں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “ہمیں اجتماعی طور پر ان افراد کے لیے بہت اہم اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جو گھروں میں تنہا اور الگ تھلگ زندگی گزار رہے ہیں۔” یہ بیان گرمی کی شدت کے دوران سماجی رابطوں اور دیکھ بھال کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
واضح رہے کہ سانتے پبلک فرانس آج مزید تفصیلی اعداد و شمار جاری کرے گا، جو 22 سے 28 جون کے درمیان شدید گرمی سے ہونے والی ہلاکتوں پر مرکوز ہوں گے۔ اس سے قبل محکمہ صحت کے ابتدائی تخمینے میں تقریباً 1,000 اضافی اموات کا ذکر کیا گیا تھا، جو اب دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں۔
