فرانس کے وزیر داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ بدھ اور جمعرات کو غیر قانونی امیگریشن کے خلاف ملک گیر کارروائی کے تحت 4000 پولیس، جینڈرمیری، کسٹمز اور فوجی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ ان کارروائیوں کا مقصد ٹرینوں اور بسوں میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کرنا ہے۔ وزیر داخلہ برونو ریتایو نے بتایا کہ اس سال اب تک 47000 غیر قانونی امیگرنٹس کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
ایک سرکاری نوٹ میں، جو ایجنسی فرانس پریس (اے ایف پی) نے بھی دیکھی ہے، وزیر داخلہ نے ہدایت دی ہے کہ پڑوسی ممالک اور بڑے فرانسیسی شہروں سے آنے اور جانے والی ٹرینوں پر خصوصی کنٹرول کیا جائے۔ اس سے قبل، 20 اور 21 مئی کو کی گئی کارروائیوں میں 750 سے زائد گرفتاریاں عمل میں آئیں۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ سرحدی کنٹرول کو دوبارہ سخت کر دیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے پولیس، جینڈرمیری، کسٹمز اور فوجی اہلکار شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فرانس میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کا خیر مقدم نہیں کیا جائے گا۔
اس اقدام کو بائیں بازو کی جماعتوں اور مہاجرین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایسوسی ایشن یوٹوپیا 56 نے اس اقدام کو “نسلی امتیاز کی مہم” قرار دیا ہے۔ جبکہ ایم آر اے پی (مومنٹ اگینسٹ ریسیزم اینڈ فار فرینڈشپ بین پیپلز) نے اسے “غریب ترین افراد کو نشانہ بناتے ہوئے ایک زینو فوبک اقدام” کہا ہے۔
کمیونسٹ ڈپٹی ایلسا فاؤسیلون اور دیگر سیاستدانوں نے بھی اس اقدام پر تنقید کی ہے، اسے “غیر ملکیوں کے خلاف شکار” قرار دیا ہے۔ جبکہ کئی مزدور یونینز نے ان کارروائیوں کو “چھاپوں” کے مترادف قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔
وزیر داخلہ برونو ریتایو نے اپنی تقرری کے بعد سے امیگریشن کے خلاف سخت موقف اختیار کر رکھا ہے اور انہوں نے 2025 میں نئی امیگریشن قانون سازی کا عندیہ بھی دیا ہے۔ ان کی پالیسیز کو فرانس کے وزیر اعظم فرانسوا بیرو کی بھی حمایت حاصل ہے، جو امیگریشن کنٹرول کو ضروری سمجھتے ہیں اور اس حوالے سے بحث کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

