فرانس کی حکومت نے ایک طویل انتظار کے بعد قابل استعمال ماہواری کے مصنوعات کی ادائیگی کا راستہ ہموار کر دیا ہے۔ یہ اقدام 26 سال سے کم عمر خواتین اور عمر کی کوئی قید نہ ہونے کی صورت میں کم آمدنی والے افراد کے لیے ہے، جس سے تقریباً 67 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔
ادائیگی کا عمل کب شروع ہوگا؟
حکومت کے مطابق یہ سکیم “2026 کے تعلیمی سال” سے نافذ العمل ہوگی۔ اس کا اعلان جمعرات 26 اپریل کو کیا گیا، جب حکومت نے اس سلسلے میں ایک انتظاری حکم نامے پر دستخط کیے۔ یہ اقدام مالی سال 2024 کے سوشل سیکیورٹی فنڈنگ ایکٹ کے تحت منظور کیا گیا تھا، لیکن مسلسل حکومتی تبدیلیوں کی وجہ سے اس پر عملدرآمد میں تاخیر ہوتی رہی۔
کن مصنوعات پر محیط ہوگا؟
اس سکیم کے تحت ماہواری کی ایسی مصنوعات کی ادائیگی کی جائے گی جو دوبارہ استعمال کی جا سکتی ہیں، جن میں ماہواری کے انڈرویئر (پیریڈ پینٹس) اور ماہواری کے کپ شامل ہیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق، 26 سال سے کم عمر بیمہ شدہ خواتین کو سوشل سیکیورٹی کے ذریعے 60 فیصد رقم واپس ملے گی، جبکہ باقی ماندہ رقم تکمیلی صحت انشورنس ادا کرے گی۔
غریب طبقے کے لیے خصوصی سہولت
کم آمدنی والے افراد، جو سولیڈیریٹی کمپلیمنٹری ہیلتھ (سی2ایس) کے حقدار ہیں، ان مصنوعات کی مکمل قیمت کی ادائیگی کی سہولت سے مستفید ہوں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد نہ صرف ماہواری کی غربت کے خلاف جنگ لڑنا ہے، جو بہت سے افراد کو متاثر کرتی ہے، بلکہ خریداری کی طاقت کو سہارا دینا اور ماحول دوست مصنوعات کے استعمال کو فروغ دینا بھی ہے۔
مزید تفصیلات کا انتظار
حکومتی ذرائع کے مطابق، آنے والے دنوں میں سرکاری جریدے میں شائع ہونے والے حکم نامے کے ساتھ ہی ایک آرڈیننس جاری کیا جائے گا، جس میں ادائیگی کی جانے والی مصنوعات کی واضح قسمیں طے کی جائیں گی۔ اطلاعات کے مطابق، اس سلسلے میں تفصیلی معیارات ابھی تک حتمی شکل نہیں اختیار کر سکے ہیں اور اس پر مینوفیکچررز اور سوشل سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے درمیان کم از کم تین بار تبادلہ خیال ہو چکا ہے۔
سماجی ردعمل
اس اعلان پر سماجی حلقوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم ‘رگولز ایلیمینٹائرز’ نے اسے “ماہواری کی غربت کے خلاف جنگ میں ایک تاریخی پیش رفت” قرار دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ “دنیا میں پہلی بار، خواتین اور ماہواری والے افراد کو اپنے ایام میں حفاظتی سامان حاصل کرنے کا حق دیا گیا ہے۔” تاہم، تنظیم نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس بات پر نظر رکھے گی کہ اس اقدام کا نفاز ترجیحی اور غریب ترین طبقوں تک پہنچے۔
