یورپی کمیشن کی توثیق
یورپی کمیشن کے ترجمان تھامس ریگنیر نے منگل کے روز تصدیق کی کہ فرانس کو 15 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر پابندی عائد کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ “فرانسیسی حکام کو اپنے شہریوں کے لیے ڈیجیٹل عمر کی حد مقرر کرنے کا حق ہے”۔
قانون سازی کا عمل
فرانسیسی پارلیمنٹ نے رینیساںس پارٹی کی پیش کردہ اس تجویز کو پہلی قرات میں منظور کر لیا ہے جس کے تحت 15 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی۔ یہ اقدام نوجوانوں کی ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جسے صدر ایمانوئل میکرون اور حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
عمر کی تصدیق کا نظام
ترجمان نے وضاحت کی کہ “آن لائن پلیٹ فارمز پر قومی قوانین کی پابندی لازم ہے، لیکن یہ یقینی بنانا کہ یہ قابل اطلاق ہے اور انہوں نے عمر کی تصدیق کے مناسب نظام نافذ کیے ہیں، یہ کمیشن کی ذمہ داری ہے”۔ انہوں نے بتایا کہ فرانس سمیت متعدد یورپی ممالک فی الحال عمر کی تصدیق کی ایک ایپلیکیشن کا تجربہ کر رہے ہیں جو اس مقصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔
عمل درآمد کا شیڈول
ڈیجیٹل امور کی وزیر مملکت این لی ہیناف نے بتایا کہ حکومت تیزی سے عمل درآمد چاہتی ہے۔ نئے اکاؤنٹس کے لیے یہ پابندی 2026 کے تعلیمی سال سے نافذ ہوگی، جبکہ تمام صارفین (بشمول موجودہ اکاؤنٹس) کے لیے مؤثر عمر کی تصدیق کا نظام یکم جنوری 2027 تک مکمل ہوگا۔
بین الاقوامی تناظر
اگر یہ قانون حتمی شکل میں منظور ہو جاتا ہے تو فرانس آسٹریلیا کے بعد دوسرا ملک بن جائے گا جس نے نابالغوں کے لیے اتنے سخت قوانین متعارف کرائے ہوں۔ آسٹریلیا نے گزشتہ دسمبر میں 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی تھی۔
اگلے اقدامات
اب یہ تجویز فرانسیسی سینیٹ میں پیش کی جائے گی، جس کے بارے میں وزیر نے بتایا کہ یہ عمل “آنے والے ہفتوں میں” مکمل ہوگا۔ صدر میکرون نے اس قانون سازی کو “ایک اہم سنگ میل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ “ہمارے بچوں کے دماغ فروخت کے لیے نہیں ہیں – نہ امریکی پلیٹ فارمز کے لیے، نہ چینی نیٹ ورکس کے لیے”۔
