پیرس: محکمہ موسمیات فرانس نے پیشگی اطلاع دی تھی کہ گرمی کی شدید لہر کا اختتام طاقتور طوفانوں کے ساتھ ہوگا اور ہفتے کے روز بالکل ایسا ہی ہوا۔ کچھ گھنٹے پہلے تک دم گھوٹنے والی گرمی سے نڈھال ملک کے کئی علاقوں میں تیز آندھی، ژالہ باری اور بجلی کی زبردست چمک نے موسم کا منظر نامہ یکسر بدل کر رکھ دیا۔
طوفانی بارشوں کا یہ سلسلہ دوپہر کے بعد شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے شمالی اور وسطی فرانس میں پھیل گیا۔ طوفانوں کی نگرانی کرنے والے ادارے ‘کیراونوس’ نے بلوئس شہر کے قریب ہوا کی رفتار 145 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی۔ ادارے کے مطابق، “ہفتے کے روز ملک بھر میں 127,000 سے زائد بجلی کی چمک ریکارڈ کی گئی، خاص طور پر جنوب مغرب سے بیلجیئم کی سرحدوں تک بجلی کی سرگرمیاں غیر معمولی طور پر گھنی رہیں،” اور بتایا کہ تقریباً 12,000 بار بجلی زمین سے ٹکرائی۔
پیرس میں حفاظتی اقدامات اور کھیلوں کا مقابلہ متاثر
شدید طوفان کے پیش نظر حکام نے پیرس سمیت کئی شہروں میں پارکس اور باغات کو مقررہ وقت سے پہلے بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ دارالحکومت میں ایفل ٹاور نے ایک بڑے بجلی روک (لائٹننگ راڈ) کے طور پر اپنا کردار ادا کیا۔ دوسری جانب سینٹ ڈینس میں ٹاپ 14 رگبی فائنل کے دوران کھلاڑیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کھیل کو کچھ منٹوں کے لیے روکنا پڑا جب آسمان پر بجلی چمکنے لگی۔
شہریوں کا عجیب و غریب پرجوش ردعمل
ان طوفانوں نے جہاں کچھ جگہوں پر نقصان پہنچایا، وہیں مقامی لوگوں کی جانب سے ایک غیر متوقع طور پر خوشگوار ردعمل بھی سامنے آیا۔ شدید گرمی سے تنگ شہری بارش کے قطروں اور ٹھنڈی ہوا کو ایک نعمت سمجھ کر خوشی کا اظہار کرتے نظر آئے۔ پیرس میں ایک شہری یاسین نے خبر رساں ادارے کو بتایا، “اس ہفتے کام کے دوران جس گرمی اور تپش کو ہم نے برداشت کیا، اس کے بعد یہ بارش بہت اچھی لگ رہی ہے۔ ہم پریشان تھے، اب برداشت نہیں ہو رہی تھی۔”
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر بھ بارش کی خوشی میں ڈھیروں ویڈیوز وائرل ہوئیں۔ صارفین نے باہر ناچتے ہوئے اور بجلی کی چمک کے دلکش نظارے فلماتے ہوئے اپنی ویڈیوز میں مشہور فلم ‘کریکو اور جادوگرنی’ کا وہ گانا شامل کیا جس میں گاؤں والے “پانی آ گیا” کا نعرہ لگاتے ہیں۔
مزید طوفانوں کی پیشگوئی
محکمہ موسمیات فرانس نے اتوار کے لیے بھی تقریباً دس صوبوں میں طوفان کا اورنج الرٹ جاری رکھا ہے۔ محکمے کا کہنا ہے کہ “شمالی نوویل-ایکوٹین سے لے کر شمال مشرق تک مزید طاقتور طوفان آ سکتے ہیں۔”
یاد رہے کہ ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کی شدید گرمی کی لہروں کے “تباہ کن” اثرات جنگلی حیات اور نباتات پر مرتب ہو سکتے ہیں، اور مستقبل میں فرانس میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔
