فرانس کی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کی تیاری: ایمانوئل میکرون کا اعلان

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد اقوام متحدہ میں دیگر ممالک کو بھی اس اقدام کے لیے تحریک دینا ہے۔ یہ اعلان 2025 میں کیا جائے گا اور اس کے ذریعے فرانس عالمی سطح پر امن کی ایک نئی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے۔

میکرون نے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا جب وہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں اجلاس کے موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کر رہے تھے۔ فرانس کے اس اقدام کا مقصد مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنا ہے۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور وہاں کے عوام کو خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے خوراکی پروگرام کے مطابق، غزہ کے ایک تہائی لوگ کئی دنوں تک کھانا نہیں کھا پاتے اور ضرورت مند خواتین اور بچوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

فرانس کی طرف سے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا مقصد یہ بھی ہے کہ اگر امریکہ کی مدد سے کوئی جنگ بندی ہوتی ہے تو اس کے بعد کے مراحل میں فرانس اہم کردار ادا کر سکے۔ فرانس اور سعودی عرب مل کر ایک منصوبہ تیار کر رہے ہیں جس میں فلسطینی انتخابات، حماس کا غیر مسلح ہونا اور ایک تکنیکی حکومت کا قیام شامل ہے۔

تاہم، بعض ماہرین کے مطابق اسرائیل اور فلسطین کے موجودہ حالات میں ایک فلسطینی ریاست کا قیام ممکن نہیں دکھائی دیتا۔ اسرائیل کی حکومت کی موجودہ پالیسیوں کے پیش نظر یہ منصوبہ حقیقت سے دور نظر آتا ہے۔

فرانس کا یہ اقدام ایک دو ریاستی حل کی جانب قدم اٹھانا ہے، حالانکہ موجودہ حالات میں یہ راستہ کٹھن نظر آ رہا ہے۔ اس کے باوجود، فرانس عالمی سطح پر امن کی کوششوں کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاکہ مستقبل میں اسرائیل میں کوئی سیاسی تبدیلی آ سکے جس سے یہ منصوبہ حقیقت بن سکے۔