فرانس میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے وزیر فلپ بپٹسٹ نے ملک بھر کے پریفیکٹس اور تعلیمی حکام کو ایک سرکلر جاری کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ وہ یونیورسٹیوں میں ہونے والے “سیاسی اجلاسوں” پر پابندی عائد کریں، اگر ان سے عوامی امن و امان کو خطرہ لاحق ہو۔
ایک واقعے کے بعد سخت موقف
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب فروری میں سائنسز پو لیون میں فلسطینی حقوق کی کارکن ریما حسن کی ایک کانفرنس کے دوران انتہائی دائیں بازو کے ایک کارکن کوئنٹن ڈیرانک کی ہلاکت کے واقعے کے بعد حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ وزیر نے اس واقعے کو “وقفے” کی ضرورت کی واضح دلیل قرار دیا ہے۔
وزیر کا الزام اور سیاسی ردعمل
بی ایف ایم ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ سیاسی شخصیات کی آمد سے “واضح خطرات” پیدا ہوتے ہیں اور انہوں نے ریما حسن کے “سیاسی بیانات کی شدت” پر بھی تنقید کی، جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ اس سے تشدد کو ہوا ملتی ہے۔
دوسری طرف، ریما حسن نے اس اقدام پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر “طالب علموں اور اداروں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ کون سی کانفرنسز اور شخصیات کو مدعو کر سکتے ہیں۔” ان کا مؤقف ہے کہ وزیر کوئنٹن کے واقعے کو سیاسی طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
لا فرانس انسمائز کی بریت
اسی دوران، لا فرانس انسمائز کے کوآرڈینیٹر مینوئل بومپارڈ نے فرانس انٹر پر واضح کیا کہ ان کی جماعت کا اس سانحے میں کوئی “اخلاقی ذمہ داری” نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، “یہ انتہائی غلط ہے کہ ہم پر اخلاقی ذمہ داری عائد کی جائے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے ہاتھ خون سے رنگے ہیں؟ میری کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔”
حکومت کی حدود اور جامعات کا اختیار
حقیقت یہ ہے کہ حکومت براہ راست کسی کانفرنس پر پابندی عائد نہیں کر سکتی۔ یہ اختیار صرف یونیورسٹیوں کے صدر نشینوں کے پاس ہے، جو اگر ضروری سمجھیں تو پریفیکچر کے ساتھ مل کر سیکیورٹی کے انتظامات کر سکتے ہیں۔
ماضی کے متنازعہ واقعات
یونیورسٹیوں میں سیاسی تقریبات کا معاملہ نیا نہیں ہے۔ 2024 میں، سائنسز پو پیرس نے ریما حسن کی آمد پر پابندی لگا دی تھی، جسے بعد میں انتظامی عدالت نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔ اسی طرح لیل یونیورسٹی نے ژاں-لوک میلینشون کی تقریر روکنے کی کوشش کی جبکہ تولوز یونیورسٹی نے اس کے برعکس فیصلہ کیا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں تمام سیاسی کانفرنسوں پر مکمل پابندی کا تصور کرنا مشکل ہے، لیکن حکومت کی یہ ہدایت یونیورسٹی انتظامیہ پر دباؤ بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔
