حکومت اور اپوزیشن میں سیاسی جمود برقرار
پاکستان تحریک انصاف اور تحفظ آئین پاکستان الائنس کا سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت، خاص طور پر بینائی کے مسائل پر احتجاجی دھرنا منگل کو پانچویں روز میں داخل ہو گیا۔ پارلیمانی رہنماؤں کی قیادت میں یہ دھرنا اسلام آباد میں جاری ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں احتجاجی مظاہروں کے باعث مرکزی شاہراہیں بلاک ہیں۔
صوبائی وزیراعلیٰ کا واضح موقف
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں کے پی ہاؤس کے باہر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے مطالبات کو غلط طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہماری طرف سے کسی میڈیکل رپورٹ کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ ہماری بنیادی گزارش یہ ہے کہ پارٹی بانی کو ان کے ذاتی ڈاکٹر، خاندان کے افراد، آنکھوں کے ماہر اور شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔”
انہوں نے زور دے کر کہا کہ سابق وزیراعظم کا اپنی پسند کے ڈاکٹر سے علاج کروانا ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ آفریدی نے سوال اٹھایا، “اگر حکومت ان کے ذاتی ڈاکٹر کو ملنے کی اجازت نہیں دے رہی، تو وہ کیا چھپا رہی ہے؟”
الائنس کا فیصلہ: دھرنا جاری رہے گا
اپوزیشن اتحاد نے پارلیمنٹ ہاؤس میں مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ جیل میں موجود عمران خان سے ان کے دفتر کے کسی نمائندے کی ملاقات تک دھرنا جاری رکھا جائے گا۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو میں کہا، “جب تک ہمارا دفتر کا نمائندہ ان سے مل نہیں لیتا، دھرنا جاری رہنا چاہیے۔”
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بھی اسی موقف کی تائید کی۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے واضح کیا کہ اپوزیشن کا بنیادی مطالبہ عمران خان کو ان کے ذاتی ڈاکٹر تک رسائی دینا ہے۔
خیبرپختونخوا میں احتجاجی ناکہ بندی
پی ٹی آئی کے حامیوں نے پارٹی بانی کی صحت کے خدشات کے پیش نظر رشکئی انٹرچینج کو بلاک کر دیا ہے، جس کے باعث مسافروں کو جی ٹی روڈ استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق پشاور-اسلام آباد موٹروے (ایم-1) سوابی انٹرچینج پر احتجاج کے باعث تمام ٹریفک کے لیے بند ہے، جس کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔
وزیر مملکت بلال اعظم کایانی نے کے پی میں سڑکوں کی بندش کو آئین کے آرٹیکل 15 کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے صوبے کے عوام کی خدمت کے لیے ووٹ مانگے تھے لیکن اب انہیں پریشانی میں ڈال رہی ہے۔
حکومتی ردعمل: معاملہ کو سنجیدہ نہیں لیا جا رہا
اطلاعات کے وزیر عطاء اللہ تارر نے لندن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکام نے قید سابق وزیراعظم کو صحت کی سہولیات فراہم کر کے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل ماہرین نے عمران خان کا معائنہ کیا ہے اور پارٹی نمائندوں کو ان کی حالت سے آگاہ کیا گیا ہے۔ تارر نے پی ٹی آئی پر آنکھ کے معاملے پر غیر ضروری ہلچل پیدا کرنے کا الزام لگایا۔
بیٹوں کی پریشانی اور ویزا کی درخواست
عمران خان کے بیٹوں کاسم اور سلیمان نے لندن میں رائٹرز سے بات کرتے ہوئے اپنے والد کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ گذشتہ دو سال سے ان سے مل نہیں سکے اور اب ویزا کی درخواست دے چکے ہیں۔ بیٹوں کے مطابق انہوں نے گذشتہ جمعرات کو ستمبر کے بعد پہلی بار اپنے والد سے بات کی، جس میں انہوں نے کہا کہ کئی ماہ سے ان کی آنکھ کا علاج نہیں ہو رہا۔
سیاسی پس منظر
عمران خان، جن کی عمر 73 سال ہے، اگست 2023 سے مختلف مقدمات میں سزاؤں کے بعد جیل میں ہیں، جنہیں وہ اور ان کی پارٹی سیاسی طور پر محرک قرار دیتی ہے۔ 2022 میں تحریک عدم اعتماد سے برطرفی کے بعد سے ان کے خلاف متعدد مقدمات چل رہے ہیں۔ پی ٹی آئی 2018 میں واضح اکثریت سے حکومت میں آئی تھی اور اب بھی اہم صوبوں میں اس کی وسیع عوامی حمایت موجود ہے۔
