فرانسیسی انفلوئنسر ٹیبی جونز، جو کہ خطرے سے بھرپور سفر کے حوالے سے مشہور ہیں، حال ہی میں افغانستان میں طالبان کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد تنازعہ کی زد میں آ گئے ہیں۔ ٹیبی جونز نے خود کو کابل میں طالبان کے ساتھ اسلحہ کے ساتھ فلمایا اور افغان عوام کی مہمان نوازی کی تعریف کی، جس سے انہیں طالبان کی حمایت کا الزام دیا جا رہا ہے۔
ٹیبی جونز، جس کا اصلی نام تھیبولٹ جونز ہے، نے حالیہ دنوں میں اپنی ویڈیوز میں کابل کے مختلف علاقوں کی سیر کی ہے۔ وہ طالبان کے زیرِ نگرانی کابل کی گلیوں کا سفر کر رہا ہے اور ان کی رہنمائی میں افغانستان کی صورتحال کو پیش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی حقیقی تصویر مغربی میڈیا کے بیانیے سے مختلف ہے۔ طالبان نہیں، بلکہ افغان عوام غربت اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
جونز نے کابل میں اپنی ویڈیوز کے دوران متعدد افغان عوام سے ملاقاتیں کیں اور روایتی افغان کھانوں اور مقامی تقریبات میں شرکت کی۔ ان کے مطابق، افغان لوگ غیر ملکی سیاحوں کے لیے بہت مہمان نواز ہیں۔ تاہم، ان کے اس اقدام کو سوشل میڈیا پر منفی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، جہاں کچھ لوگوں نے ان پر طالبان کے نظریات کو فروغ دینے کا الزام لگایا۔
افغانستان میں خواتین کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے، جونز نے دعویٰ کیا کہ کابل میں خواتین حجاب، نقاب، یا سادہ سکاف کے ساتھ آزادانہ طور پر گھومتی ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔
ٹیبی جونز جیسا عمل پہلی بار نہیں ہوا ہے؛ اس سے قبل کئی بین الاقوامی انفلوئنسرز طالبان کے تحت افغانستان کی مثبت تصویر دکھانے کی کوشش کر چکے ہیں، لیکن یہ کوششیں عالمی سطح پر تنقید کا سبب بنی ہیں کیونکہ طالبان حکومت کو اب بھی عالمی برادری نے تسلیم نہیں کیا ہے۔
