اسلام آباد: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد مال برداروں نے کرایہ میں مزید 5 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ حکومتی وعدے پورے نہ ہونے کی صورت میں ملک گیر ہڑتال کی وارننگ بھی دی گئی ہے۔
چار روز میں ڈیزل 20 اور پٹرول 24 روپے مہنگا
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان کے مطابق گزشتہ چار روز کے دوران ڈیزل کی قیمت میں 20 روپے فی لیٹر اور پٹرول کی قیمت میں 24 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 20 اگست سے 7 ستمبر کے درمیان بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 23 روپے فی لیٹر تک اضافہ کیا جا چکا ہے۔
روزانہ بنیادوں پر قیمتوں کا تعین ناقابل قبول
ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ بنیادوں پر تعین کرنے کا فیصلہ ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق 8 سے 17 اگست تک جاری رہنے والی ملک گیر ہڑتال کے دوران وفاقی وزیر پٹرولیم نے ٹرانسپورٹرز کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ایندھن کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
40 دن کی مہلت اگلے ہفتے ختم ہو رہی ہے
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی یقین دہانیوں پر ملک گیر ہڑتال 40 دن کے لیے ملتوی کی تھی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مسائل کے حل کے لیے 40 دن کا وقت مانگا تھا، جس کی ڈیڈ لائن اگلے ہفتے ختم ہو رہی ہے۔
وعدے پورے نہ ہوئے تو ملک گیر ہڑتال
ملک شہزاد اعوان نے واضح وارننگ دی کہ اگر حکومت کے ساتھ طے پانے والے معاہدے نافذ نہ کیے گئے تو پاکستان بھر کے ٹرانسپورٹرز دوبارہ ملک گیر ہڑتال شروع کر دیں گے۔
- گزشتہ چار روز میں ڈیزل 20 روپے اور پٹرول 24 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا
- 20 اگست سے 7 ستمبر کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں 23 روپے فی لیٹر تک اضافہ
- روزانہ بنیادوں پر قیمتوں کے تعین کو ناقابل قبول قرار دیا گیا
- 8 سے 17 اگست کی ہڑتال کے بعد 40 دن کے لیے احتجاج ملتوی کیا گیا تھا
- حکومتی وعدے پورے نہ ہونے پر دوبارہ ملک گیر ہڑتال کی وارننگ
