ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب
جب پوری دنیا مصنوعی ذہانت چلانے کے لیے اینویڈیا کے گرافکس کارڈز پر انحصار کر رہی ہے، گوگل نے ایک بڑا دھماکا کر دیا ہے۔ کمپنی کے نئے اسٹار ماڈل جیمنی 3 کو سانٹا کلارا کی کسی بھی چپ کے بغیر تربیت دی گئی ہے، جو ٹیک انڈسٹری کے لیے ایک بڑی خبر ہے۔
اپنے ہارڈویئر پر مکمل انحصار
گوگل نے پہلی بار ایک ایلیٹ ماڈل کو مکمل طور پر اپنے ہارڈویئر پر تربیت دی ہے۔ یہ نہ صرف ایک تکنیکی کارنامہ ہے بلکہ قائم شدہ نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی ہے۔ جیمنی 3 کو گوگل کے اپنے ٹی پی یو سرورز پر تیار کیا گیا ہے۔
اینویڈیا کے مونوپولی کو چیلنج
اب تک مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے اینویڈیا کا غلبہ قائم تھا، لیکن گوگل نے ثابت کر دیا کہ اپنے چپس کے ذریعے بھی بہترین نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ جیمنی 3 نے سائنٹیفک ریزنگنگ ٹیسٹس میں 91.9% اسکور حاصل کرکے اپنی برتری ثابت کی ہے۔
صنعت کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟
- مائیکروسافٹ، اوپن اے آئی اور میٹا جیسی کمپنیاں پہلے ہی اپنے ہارڈویئر تیار کر رہی ہیں
- ایپل اپنے این پی یو پر مبنی سرورز پر کام کر رہا ہے
- اینویڈیا کی مکمل انحصاریت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے
مستقبل کے امکانات
اگر بڑی ٹیک کمپنیاں اپنے ہارڈویئر پر انحصار کرنا شروع کر دیں تو اینویڈیا کی منافع میں کمی آ سکتی ہے۔ تاہم اینویڈیا کے پاس اب بھی مضبوط پوزیشن ہے اور وہ نئی ایجادات پر کام کر رہا ہے۔
گوگل نے مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں نئی راہیں کھول دی ہیں، جہاں صرف چیٹ بوٹ کی کارکردگی ہی نہیں بلکہ تکنیکی انحصاریت سے آزادی بھی اہم ہو گی۔
