پیرس کے کونسل میں ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا جب اپوزیشن کی رکن نیلی گارنیئر نے نوجوان ایلیاس کی ہلاکت کے لیے شہر کی انتظامیہ کو جزوی طور پر ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بائیں بازو کی لاپروائی نے اس قاتلانہ حملے کے لیے ماحول تیار کیا۔
نیلی گارنیئر نے دعویٰ کیا کہ پیرس کی بائیں بازو کی قیادت نے حقیقت سے چشم پوشی کرتے ہوئے ایک ایسی صورت حال پیدا کی ہے جہاں ایلیاس کی موت ممکن ہوئی۔ ایلیاس، جو محض 14 سال کا تھا، تین ہفتے قبل پیرس میں دو دیگر نوجوانوں کے ہاتھوں قتل ہوا۔
گارنیئر کے بیان کے بعد کونسل میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔ میئر این ہیڈالگو نے ان کے بیان کو “ناقابل قبول” قرار دیا اور معافی کا مطالبہ کیا۔ میئر نے کہا کہ ایسے بیانات کی کوئی جگہ نہیں ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یہ تنازعہ بڑھتا چلا گیا جب سوشلسٹ گروپ کے رہنما ریمی فیرود نے کہا کہ یہ بیانات انتہائی خطرناک ہیں اور وہ اس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بیانات واپس نہیں لیے گئے تو قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔
دوسری جانب، نیلی گارنیئر نے اپنے بیان پر قائم رہتے ہوئے کہا کہ وہ پیرس میں بچوں کی حفاظت کے معاملے پر سوال اٹھانے سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ ان کے گروپ ‘چینجر پیرس’ نے کہا کہ میئر کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے اور ان کے خیالات کو دبانے کی کوشش ہے۔
اس تنازعہ کے پیش نظر، این ہیڈالگو نے اعلان کیا کہ وہ قانونی کارروائی کریں گی اور کونسل کے تمام متاثرہ ارکان کو بھی ایسا کرنے کی دعوت دی۔
یہ معاملہ سیاسی لحاظ سے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ کئی سیاسی رہنما نیلی گارنیئر کے بیانات کی مذمت کر رہے ہیں اور اسے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ پیرس کونسل کی اگلی خصوصی میٹنگ میں اس معاملے پر مزید بات چیت متوقع ہے۔
