آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے طویل انتظار کے بعد آج کراچی کے نیشنل بینک اسٹیڈیم میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا میچ کھیلا جا رہا ہے۔ پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کا فیصلہ کیا، جو کہ اس ٹورنامنٹ کی شروعات کی علامت ہے جو کئی سالوں کے بعد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کو واپس لا رہا ہے۔
یاد رہے کہ 2009 میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کی بس پر حملے کے بعد، جس میں کئی کھلاڑی زخمی ہوئے تھے، پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ تقریباً ختم ہوگئی تھی۔ اس حملے کے نتیجے میں پاکستان 2009 کی چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کے حقوق کھو بیٹھا اور 2011 کے ورلڈ کپ کی میزبانی سے بھی محروم رہا۔ پاکستانی کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بین الاقوامی ٹیموں کو حفاظتی اقدامات کی یقین دہانی کرانے میں کئی سال صرف کیے، جس کے بعد یہ تاریخی موقع آیا کہ ایک بڑی آئی سی سی ایونٹ پاکستان میں منعقد ہو رہی ہے۔
سوائے بھارت کے، تمام شرکاء ٹیمیں پاکستان کے تین بڑے شہروں میں کھیلیں گی، جو کہ ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے لئے ایک اہم قدم ہے۔ اسٹیڈیم کے باہر کا ماحول جذبے سے بھرپور تھا، جہاں شائقین میچ کے آغاز سے کئی گھنٹے پہلے ہی جمع ہو گئے تھے۔ شدید گرمی کے باوجود، شائقین، جن میں خاندان اور بچے بھی شامل تھے، اپنی ٹیم کو اپنے وطن کی سرزمین پر کھیلتے دیکھنے کے لئے بےچینی سے انتظار کر رہے تھے۔ ان کی خوشی پاکستان میں کرکٹ کے لئے محبت اور اس طویل انتظار کے بعد اس طرح کے بڑے ایونٹ کی میزبانی کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
گرین ٹیم کے کھلاڑی اپنے ٹائٹل کا دفاع کرنے کی تیاری میں ہیں، اور توقعات بلند ہیں۔ کھلاڑیوں اور شائقین دونوں کو امید ہے کہ یہ مہم کامیاب ثابت ہوگی۔ یہ ایونٹ نہ صرف پاکستانی کرکٹ کے لئے ایک اہم لمحہ ہے بلکہ عالمی کرکٹ کے میدان میں ملک کی ساکھ کی بحالی کا بھی ثبوت ہے۔
