اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے ۱۹ کروڑ پاؤنڈ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلیں ۳۰ اپریل (کل) سننے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈویژن بنچ کرے گا سماعت
چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بنچ کل (جمعرات) کو ان درخواستوں کی سماعت کرے گا۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ نے احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا کے جنوری ۲۰۲۵ میں سنائے گئے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس میں عمران خان کو ۱۴ سال اور بشریٰ بی بی کو ۷ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
نیب پر عائد ہوا جرمانہ
اس سے قبل مارچ میں عدالت نے ۱۹ کروڑ پاؤنڈ کیس میں کارروائی میں تاخیر پر نیب کے خصوصی پراسیکیوٹر پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔
ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت بھی کل
ایک اور پیش رفت میں اسلام آباد کی بینکنگ کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت بھی کل (جمعرات) کے لیے مقرر کر دی ہے۔ حکام نے سابق وزیر اعظم اور دیگر افراد کے خلاف چالان پیش کر دیا ہے اور انہیں مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔
عمران خان اگست ۲۰۲۳ سے جیل میں ہیں اور اپریل ۲۰۲۲ میں اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد بدعنوانی سے لے کر دہشت گردی تک متعدد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔
القادر ٹرسٹ کیس کا پس منظر
القادر ٹرسٹ کیس، جسے عام طور پر ۱۹ کروڑ پاؤنڈ کیس کہا جاتا ہے، میں الزام ہے کہ عمران خان اور دیگر نے ۲۰۱۹ میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کی طرف سے پاکستانی حکومت کو بھیجے گئے ۵۰ ارب روپے (جو اس وقت ۱۹ کروڑ پاؤنڈ تھے) کو اپنے دور وزارت عظمیٰ میں ایڈجسٹ کیا۔
یہ رقم ایک پراپرٹی ٹائیکون کے اثاثوں سے متعلق تھی، جسے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں این سی اے نے ضبط کیا تھا۔ برطانوی ادارے نے اس وقت کہا تھا کہ یہ رقم پاکستان حکومت کو منتقل کی جانی تھی کیونکہ پاکستانی ٹائیکون کے ساتھ تصفیہ “ایک سول معاملہ تھا اور جرم کا ثبوت نہیں”۔
تاہم نیب نے دسمبر ۲۰۲۳ میں ریفرنس دائر کیا اور ۲۷ فروری ۲۰۲۴ کو عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف الزامات عائد کیے، جس میں کہا گیا کہ اس وقت کے وزیر اعظم عمران نے ۳ دسمبر ۲۰۱۹ کو خفیہ معاہدے کی تفصیلات ظاہر کیے بغیر برطانوی ایجنسی کے ساتھ تصفیہ کیا اور اسے منظور کیا۔
