وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری اور ان کے شوہر ایڈووکیٹ حادی علی چٹھہ کو جمعہ کے روز اسلام آباد میں گرفتار کرلیا گیا۔
ذرائع کے مطابق انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر ہونے والے ایک واقعے کے سلسلے میں خصوصی عدالت (اے ٹی سی) کے وارنٹ پر گرفتار کیا گیا۔ جوڑے کو ہائی کورٹ بار کی گاڑی سے ضلعی عدالت جانے کے دوران گرفتار کیا گیا۔
گرفتاری کے حالات
پولیس نے ایمان مزاری اور حادی علی چٹھہ کے موبائل فونز ضبط کرلیے اور انہیں ویمن پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ گرفتاری ہائی کورٹ بار کے صدر وجید علی گیلانی کی شکایت پر درج مقدمے میں عمل میں لائی گئی ہے جس میں باہر احتجاج کے دوران کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔
عدالتی کارروائی
اسلام آباد کی دہشت گردی کی روک تھام کی خصوصی عدالت نے گذشتہ روز ان دونوں کی ضمانت کی درخواستیں غیر حاضری کی بنیاد پر خارج کردی تھیں۔ اس کے علاوہ، اضافی ضلعی اور سیشن جج محمد افضل ماجوکا نے انہیں متنازعہ ٹویٹس کیس میں بھی طلب کیا تھا۔
ہائی کورٹ بار کا ردعمل
ایمان مزاری اور حادی علی چٹھہ کی گرفتاری پر اسلام آباد ہائی کورٹ بار نے احتجاج کرتے ہوئے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ بار کے ترجمان نے اس اقدام کو ‘غیر قانونی’ قرار دیتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
دیگر قانونی معاملات
- جوڑے پر قومی سائبر کرائم ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
- فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی۔
- گذشتہ ماہ ایمان مزاری اور حادی علی چٹھہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دے کر جج ماجوکا پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

