اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے گیس سیکٹر کے گردشی قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی اور سخت شرائط پیش کر دی ہیں، جن میں سرکاری گیس کمپنیوں کے باضابطہ نقصانات تسلیم کرنے اور ان کی مالی تنظیمِ نو شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس تجویز پر حکام میں اختلاف پایا جاتا ہے اور حتمی فیصلہ ستمبر میں متوقع مذاکرات میں متوقع ہے۔
آئی ایم ایف کے نئے مطالبات کیا ہیں؟
ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام سے کہا ہے کہ دونوں سرکاری گیس کمپنیوں کے ناقابلِ وصول قرضوں کو باضابطہ طور پر نقصانات کے کھاتوں میں ڈالا جائے۔ فنڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ جن رقوم کی وصولی اب ممکن نہیں رہی، انہیں نقصان کے طور پر درجہ بند کیا جائے۔
آئی ایم ایف کے مطابق، ان نقصانات کو کھاتوں میں شامل کرنے کے بعد، گیس کمپنیوں کی دوبارہ سرمایہ کاری (ری کیپیٹلائزیشن) کی جانی چاہی تاکہ ان کی مالی حالت مضبوط ہو اور وہ مؤثر طریقے سے کام جاری رکھ سکیں۔>
پاکستانی حکام کا تحفظات کا اظہار
دوسری جانب، پیٹرولیم ڈویژن کے حکام مبینہ طور پر اس تجویز کو قبول کرنے سے گریزاں ہیں۔ ان کا خدشہ ہے کہ ان اقدامات پر عملدرآمد سے کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوگا۔
گردشی قرضوں کا حجم اور تصفیے کی تجویز
پاکستان کے گیس سیکٹر کا مجموعی گردشی قرضہ تقریباً 3300 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ تاہم، اس وقت زیرِ بحث تصفیے کے منصوبے کا مقصد اس میں سے صرف 1700 ارب روپے کی رقم کو حل کرنا ہے۔ یہ تجویز ابھی تک حتمی مراحل میں داخل نہیں ہو سکی۔
مذاکرات کا آئندہ لائحہ عمل
ذرائع کے مطابق، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان حالیہ ورچوئل مذاکرات میں تصفیے کے منصوبے پر کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں ہو سکا۔ اب ستمبر میں مزید بات چیت متوقع ہے، جس میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ نظرثانی شدہ منصوبے میں آئی ایم ایف کی سفارشات کو شامل کر لیا جائے گا۔
یہ پیش رفت پاکستان کے توانائی کے شعبے میں جاری مالی مشکلات اور عالمی قرض دہندہ اداروں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
