اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی قانونی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں مبینہ تنہائی کے خلاف دائر درخواست میں تحریری دلائل جمع کرا دیے۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے 19 صفحات پر مشتمل یہ دلائل جمعرات کے روز عدالت میں پیش کیے، جن میں جیل انتظامیہ کی رپورٹ کو سختی سے چیلنج کیا گیا ہے۔
جیل سپرنٹنڈنٹ کی رورٹ پر سخت اعتراضات
بیرسٹر سلمان صفدر نے اپنے دلائل میں اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کو “حقائق کے برعکس” اور “گمراہ کن” قرار دیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ محض ڈیڑھ صفحے کی یہ رپورٹ کیس میں اٹھائے گئے سنگین خدشات اور مسائل کو حل کرنے میں قطعی ناکام ہے۔ وکیل نے الزام عائد کیا کہ جیل حکام نے عدالتی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک نامکمل رپورٹ جمع کرائی۔
آزادانہ کمیشن کے قیام کی استدعا
تحریری دلائل میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کے لی ایک عدالتی معاون، مقامی کمیشن یا ایمیکس کیوری (دوست عدالت) مقرر کیا جائے۔ اس مجوزہ کمیشن کو عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کا اختیار دیا جائے، جس کے بعد عدالت اس سے تشخیصی رپورٹ طلب کرے۔
بیرسٹر صفدر نے یہ بھی استدعا کی کہ دونوں قیدیوں کو طلب کرکے ان کی تنہائی سے متعلق براہ راست بیانات ریکارڈ کیے جائیں۔ انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے بھی بیانات ریکارڈ کرنے کی تجویز پیش کی۔ مزید برآں، ایک ماہر، ایک سرکاری نمائندے اور درخواست گزاروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک بورڈ تشکیل دینے کی تجویز دی گئی، جو اڈیالہ جیل کا دورہ کر کے تنہائی میں رکھے گئے قیدیوں سے متعلق سہولیات اور ریکارڈ کا معائنہ کر کے ایک خودمختار رپورٹ پیش کرے۔
طبی ریکارڈ اور ملاقاتوں تک رسائی کا مطالبہ
قانونی ٹیم کے لیے بلا روک ٹوک رسائی کی ضرورت
بیرسٹر صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان کی قانونی ٹیم 300 سے زائد مقدمات میں ان کی نمائندگی کر رہی ہے، اس لیے وکلا کو جیل کے قوانین کے مطابق بغیر کسی رکاوٹ کے ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے جیل قوانین کے تحت قیدیوں کی اپنے اہل خانہ اور دوستوں سے باقاعدہ ہفتہ وار ملاقاتوں کو یقینی بنانے کی بھی درخواست کی۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو غیر ضروری پابندیوں یا رکاوٹوں کے بغیر ایسی ملاقاتوں کی سہولت فراہم کرنے کی واضح ہدایات جاری کی جائیں۔
ویڈیو لنک اور دیگر سہولیات کا تقاضہ
تحریری دلائل میں عمران خان کے لیے ویڈیو لنک مواصلاتی سہولیات تک رسائی کا بھی مطالبہ کیا گیا، جیسا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے قیدیوں کے لیے فراہم کی ہیں۔ مزید برآں، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو کتابیں اور ٹیلی ویژن کی سہولت فراہم کرنے کی استدعا کی گئی۔ یہ تمام دلائل جسٹس خادم حسین سومرو کی جانب سے طلب کیے گئے تھے، جنہوں نے اس حوالے سے تحریری گذارشات مانگی تھیں۔
