اسلام آباد:
وفاقی کابینہ کےلاس سے خطاب کرتے ہوئےیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہہوں نے، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ترکی کے صدر رجب طی ایردوان نے 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں اس سہ فریقی معاہدے دستخط کیے تھے۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہہ معاہدہ کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت کے لیے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ “اس کا مقصد یقینی طور پر یہ نہیں ک کوئی جارحیت ہو۔ یہ مکمل طور پر دفاعی مقاصد کے لیے، خطے میںمن، سکون اور ترقی کے لیے ہے۔”
مسلم دنیا کے لیےاقت کا ذریعہ
وزیراعظم شہباز شریف نے کہاہ یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان، سعودی عرب اور ترکی بلکہ پ مسلم دنیا کے لیے طاقت کا ذریعہ بنے گا۔ انہوں نے نائ وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اس معاہدے پر دستخط کرنے پر خصوصی پر مبارکباد دی۔
انہوں نے بتایا کہ سہ فریقی دفی معاہدے کے لیے کئی سالوں سے کوششیں جاری تھیں جو بالآ مکہ مکرمہ میں پایہ تکمیل کو پہنچیں۔ وزیراعظم نے اس جانب اشار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے ستمبر 2025 میں پہلے ہی ایکٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جبہ پاکستان اور ترکی کے درمیان کئی دہائیوں سے دفاعی اور سیکیورٹی انتات موجود ہیں۔
اسلام کے مقدس مقامات کے دفاع میں پاکستانا کردار
اسلام کے مقدس ترین مقامات کے دفاع میں پاکستان کے کردار یاد کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے تاریخی طور پر مکہ اور مدینہ کے تحفظ میں سعودی افواج کے شانہشانہ کھڑے ہو کر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہا معاہدہ اسی دیرینہ تعاون کی مزید توسیع ہے۔
وز خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ معادہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔ انہوں کہا کہ ایک فریق پر حملے کو تینوں پر حملہ تصور کرنے والی ش اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی اپنےاع کے موروثی حق سے مطابقت رکھتی ہے۔
