جیل میں موجود سابق وزیراعظم کے بیٹے نے عالمی اداروں سے مداخلت کی اپیل کی
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے الزام لگایا ہے کہ وہ اور ان کے بھائی سلیمان خان اپنے والد سے ملنے پاکستان آنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حکومت جان بوجھ کر ان کے ویزا درخواستوں پر عملدرآمد روکے ہوئے ہے۔
914 دن سے تنہائی میں قید
ایک بیان میں قاسم خان نے کہا کہ عمران خان کو 914 دن سے “تنہائی میں قید” رکھا گیا ہے، جس کے دوران ان کی صحت بگڑ گئی ہے اور انہیں آزاد طبی دیکھ بھال تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی قیدی کو طبی علاج سے محروم رکھنا “ظالمانہ” ہے اور ان کے بچوں کو ان سے ملنے سے روکنا اجتماعی سزا کے مترادف ہے۔
بین الاقوامی برادری سے اپیل
قاسم خان نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ “ناقابل تلافی نقصان” ہونے سے پہلے آواز اٹھائیں اور کارروائی کریں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمران خان کی صحت کے حوالے سے حالیہ تنازعہ پیدا ہوا ہے۔
حکومتی موقف اور الزامات
پی ٹی آئی کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ حکومت نے عمران خان کی طبی حالت کی تفصیلات کئی دنوں تک چھپائی رکھیں۔ اطلاعات کے مطابق، انہوں نے حال ہی میں اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں آنکھ کا آپریشن کرایا تھا۔
- قاسم اور سلیمان خان نے دسمبر 2025 میں ویزا درخواستیں جمع کرائی تھیں۔
- ان کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود مسلسل رابطے کی اجازت نہیں دی گئی۔
- خاندان نے عمران خان کے ذاتی معالج کی رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔
جیل انتظامیہ کا مؤقف
ادیالہ جیل انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ عمران خان کو قانون کے تحت ‘بی کلاس’ قیدیوں کی دستیاب تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جس میں خصوصی خوراک، صحت کی دیکھ بھال، مطالعہ کے مواد، ورزش اور چہل قدمی شامل ہیں۔
قانونی پیچیدگیاں
72 سالہ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں، ان پر متعدد مقدمات میں سزائیں سنائی گئی ہیں جو ان کے مطابق 2022 میں پارلیمانی ووٹ کے ذریعے انہیں عہدے سے ہٹانے کے بعد سیاسی طور پر محرک ہیں۔ ان مقدمات میں توشہ خانہ کیس، سفارتی کیبل لیک کرنے کا کیس اور القادر ٹرسٹ سے متعلق بدعنوانی کا مقدمہ شامل ہیں۔
پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ یہ قانونی چارہ جوئی عمران خان کو عوامی زندگی اور انتخابات سے خارج کرنے کے مقصد سے کی جا رہی ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ تمام قانونی کارروائی آئین اور عدالتی نظام کے دائرہ کار میں ہو رہی ہے۔

