وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز تصدیق کی کہ پاکستان آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گا۔ انہوں نے اس فیصلے کو “طویل غور و خوض” کے بعد اٹھایا گیا اقدام قرار دیا۔
کھیلوں سے سیاست کے خاتمے کا مطالبہ
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ “کھیلوں کے میدان میں سیاست کا کوئی مقام نہیں ہونا چاہیے۔” انہوں نے پاکستان کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے۔
بنگلہ دیش کی معطلی اور یکجہتی
بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ٹورنامنٹ سے بنگلہ دیش کی ٹیم خارج کر دی تھی۔ بنگلہ دیش نے اپنے میچز بھارت سے باہر کسی مقام پر منتقل کرنے کی درخواست کی تھی، جسے آئی سی سی نے ناقابل عمل قرار دے دیا۔
اس کے بعد کرکٹ کے عالمی ادارے نے بنگلہ دیش کی جگہ سکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کر لیا، یہ کہتے ہوئے کہ 7 فروری سے شروع ہونے والے ورلڈ کپ کے اتنا قریب شیڈول میں تبدیلی ممکن نہیں۔
احتجاجی اقدام کے پیچھے محرکات
حکومتی ذرائع کے مطابق، پاکستانی ٹیم کو 15 فروری کو بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کی ہدایت “احتجاج کی ایک شکل” کے طور پر دی گئی تھی۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کے چیف جے شاہ کے جانبدارانہ فیصلوں نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کو عملاً بھارتی کرکٹ بورڈ کی توسیع بنا دیا ہے۔
- ذرائع نے الزام لگایا کہ یہ جانبدارانہ فیصلے انصاف اور مساوات کے اصولوں کو کمزور کرتے ہیں۔
- آئی سی سی پر مختلف ممالک کے لیے مختلف معیارات اپنانے کا الزام عائد کیا گیا۔
- فیصلے میں بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کے علاوہ دیگر عوامل بھی مؤثر بتائے گئے۔
آئی سی سی کا ردعمل اور مذاکرات کی کوشش
آئی سی سی نے اپنے بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) “باہمی طور پر قابل قبول حل” کی طرف کام کرے گا۔ کونسل نے پی سی بی سے اپیل کی کہ وہ اپنا فیصلہ نظرثانی کرے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ یہ اقدام کھیل اور اس کے عالمی پرستاروں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ یہ بائیکاٹ “عالمی کھیل کے مفاد میں نہیں ہے اور نہ ہی دنیا بھر کے پرستاروں، جن میں پاکستان کے لاکھوں پرستار بھی شامل ہیں، کی بہبود کے لیے ہے۔”
ٹورنامنٹ کی موجودہ صورتحال
فی الحال قومی ٹیم سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں موجود ہے جو 7 فروری سے 8 مارچ تک سری لنکا اور بھارت میں مشترکہ طور پر منعقد ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ میں حصہ لے رہی ہے۔ آئی سی سی نے پی سی بی سے باہمی مفاد میں حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔

