بھارت نے حالیہ ناکامیوں کے بعد سفارتی سطح پر اپنی کوششوں کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارت کی حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل سات سفارتی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ یہ ٹیمیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک سمیت دیگر اہم شراکت دار ممالک کا دورہ کریں گی۔ ان دوروں کا مقصد بھارت کے آپریشن سندور سے متعلق آگاہی فراہم کرنا اور اپنے نقطہ نظر کو واضح کرنا ہے۔
ان سفارتی ٹیموں کے دورے اس ماہ کے آخر میں متوقع ہیں۔ ٹیمیں مختلف ممالک کی حکومتوں، تھنک ٹینکس اور میڈیا کے نمائندوں سے ملاقاتیں کر کے بھارتی حکومت کا موقف پیش کریں گی۔ بھارت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ 70 ممالک کے دفاعی اتاشیوں کو آپریشن سندور کے دوران نشانہ بنائے گئے افراد اور مقامات کے دہشت گردی سے تعلقات پر بریفنگ دے گا۔
ذرائع کے مطابق، ان بریفنگز میں سیٹلائٹ تصاویر، ریکارڈ کی گئی گفتگو، انٹیلیجنس رپورٹس اور تکنیکی ڈیٹا کی مدد سے لشکر طیبہ اور دی رزسٹنس فرنٹ کے پہلگام واقعے سے تعلق کو جوڑنے کی کوشش کی جائے گی۔ یاد رہے کہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام کے سیاحتی مقام پر فائرنگ کے واقعے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا، جسے پاکستان نے مسترد کر دیا تھا۔ بعدازاں، بھارت نے کہا کہ حملے میں دی رزسٹنس فرنٹ ملوث ہے، لیکن اس تنظیم نے بھی اس کا انکار کیا۔
پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو وہ فراہم کریں تاکہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کو ممکن بنایا جا سکے۔ تاہم، بھارت کسی بھی بین الاقوامی فورم پر ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔
یہ سفارتی کوششیں بھارت کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں، خاص طور پر حالیہ ناکامیوں کے پس منظر میں۔
