جکارتہ: انڈونیشیا کے جزیرہ بورنیو پر ایک نجی ہیلی کاپٹر کے گرنے سے دو عملے کے ارکان اور چھ مسافر ہلاک ہو گئے ہیں۔ نقل و حمل کے وزارتی عہدیداروں نے جمعہ کو اس المناک حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہوا بازی کے حفاظتی ریکارڈ پر سوالیہ نشان دوبارہ ابھر آیا ہے۔
ہوا بازی کے کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوا
مقامی فرم میتھیو ایئر نوسانتارا کی ملکیت میں موجود ایئربس ہیلی کاپٹر نے مغربی کلیمنتان صوبے سے جمعرات کی صبح پرواز بھرنے کے محض پانچ منٹ بعد ہی ہوا بازی کے کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع کر دیا تھا۔ ابتدائی تفصیلات کے مطابق ہیلی کاپٹر گھنے جنگلی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا جہاں تک رسائی مشکل تھی۔
تمام متاثرین کی لاشیں برآمد
سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل لکمان ایف لیسا کے بیان کے مطابق ہیلی کاپٹر میں سوار تمام آٹھ افراد مرد تھے جن میں سے ایک ملائیشیائی شہری بھی شامل تھا۔ سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے سربراہ آئی میڈ جونترا نے بتایا کہ ڈھلوان اور پہاڑی علاقے میں واقع گھنے جنگل میں حادثے کا مقام دریافت کر لیا گیا ہے اور تمام مسافروں اور عملے کے ارکان کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
لاشوں کو دارالحکومت منتقل کیا جا رہا ہے
بحالی کارروائی میں مصروف عملے نے جمعرات کی شام ہی متاثرین کی لاشیں برآمد کر لی تھیں۔ عہدیداروں کے مطابق تمام لاشوں کو صوبائی دارالحکومت پونٹیاناک منتقل کیا جا رہا ہے جہاں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انڈونیشیا میں فضائی حفاظت کے مسائل
جنوب مشرقی ایشیا کا یہ وسیع جزیراتی ملک اپنے ہزاروں جزائر کو ملانے کے لیے فضائی نقل و حمل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ تاہم ملک میں فضائی حفاظت کا ریکارڈ تسلی بخش نہیں رہا ہے اور حالیہ برسوں میں متعدد مہلک حادثات رونما ہو چکے ہیں:
- جنوری میں ماہی گیری کی وزارت کے کرائے کے ایک ٹربو پروپ طیارے کا سولاویسی جزیرے پر پہاڑ سے ٹکرا جانا، جس میں سوار تمام 10 افراد ہلاک ہو گئے۔
- گذشتہ سال ستمبر میں جنوبی کلیمنتان صوبے میں ایک ہیلی کاپٹر گرنے سے چھ مسافروں اور دو عملے کے ارکان کی موت۔
- اس کے دو ہفتے سے بھی کم عرصے بعد الگا کے دور دراز پاپوا ضلع میں ایک اور ہیلی کاپٹر حادثے میں چار افراد ہلاک۔
حالیہ حادثہ ایک بار پھر انڈونیشیا کی فضائی صنعت میں حفاظتی اقدامات کی شدید ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ متعلقہ حکام حادثے کی وجوہات کی تفتیش میں مصروف ہیں۔
