ریاض: سعودی عرب نے پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں 3 ارب ڈالر کا اضافی مالیاتی ذخیرہ جاری کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بادشاہ اور ولی عہد کے احکامات پر عملدرآمد
سعودی خبر ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ مالیاتی امداد بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے احکامات پر جاری کی گئی ہے۔ ایجنسی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام “بھائی کی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی معیشت” کی حمایت اور عالمی اقتصادی چیلنجز کے مقابلے میں اس کی لچک کو مضبوط بنانے کے لیے ہے۔
موجودہ 5 ارب ڈالر کے ذخیرے کی میعاد میں توسیع
سعودی عرب نے اس کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں موجود اپنے 5 ارب ڈالر کے مالیاتی ذخیرے کی میعاد میں بھی توسیع کر دی ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ مالیاتی تعاون دونوں بھائی ملکوں کے درمیان رشتوں کو مضبوط کرتا ہے اور سعودی عرب کے پاکستان کی معیشت کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کی تصدیق کرتا ہے۔
وزیر خزانہ کے بیان کی تصدیق
یہ اعلان اس سے ایک روز قبل آیا جب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ ریاض نے پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کی اضافی مالیاتی امداد کا وعدہ کیا ہے، جبکہ موجودہ 5 ارب ڈالر کے ذخیرے کی میعاد میں بھی توسیع کی گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کو 2 ارب ڈالر کی وصولی
اس سے قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 15 اپریل 2026 کی ویلیو ڈیٹ پر سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر کی وصولی کا اعلان کیا تھا۔ یہ تازہ مالیاتی تعاون ریاض اور اسلام آباد کے درمیان گہرے ہوتے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، جو گزشتہ سال باہمی دفاعی معاہدے سے مزید مضبوط ہوئے تھے۔
پاکستان کے مالیاتی چیلنجز
پاکستان کو اس مہینے متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے، جس نے ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈالا ہوا ہے۔ 27 مارچ تک یہ ذخائر تقریباً 16.4 ارب ڈالر تھے۔ آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت پاکستان کا ہدف جون تک غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے زیادہ تک پہنچانا ہے۔
سعودی عرب کی گزشتہ امداد
- 2018 میں سعودی عرب نے 6 ارب ڈالر کے پیکیج کا اعلان کیا تھا جس میں پاکستان کے مرکزی بینک میں 3 ارب ڈالر کا ذخیرہ اور 3 ارب ڈالر کی تیل کی سپلائی مؤخر ادائیگی پر شامل تھی۔
- پاکستان نے حال ہی میں 1.43 ارب ڈالر کا بیرونی قرض ادا کیا ہے، جس میں 1.3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ بھی شامل ہے۔
معاشی ماہرین کا ردعمل
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے 7 اپریل کو ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ قرض کی ادائیگی جاری ہے، جو “استحکام، نظم و ضبط اور مضبوط صلاحیت” کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 1.43 ارب ڈالر کی ادائیگی میں دیگر یورو بانڈ اجرا پر 126.125 ملین ڈالر کی کوپن ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔
یہ تازہ اقدام پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم مثبت پیشرفت سمجھی جا رہی ہے، خاص طور پر اس وقت جب ملک کو بیرونی مالیاتی دباؤ کا سامنا ہے۔
