امریکی وفد کے ساتھ ‘بالواسطہ’ بات چیت کا نیا دور
ایرانی وزیر خارجہ عباس آراغچی ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ جنیوا پہنچ چکے ہیں جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام پر نئے دور کے مذاکرات شروع ہونے ہیں۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق یہ ‘بالواسطہ’ بات چیت منگل سے شروع ہوگی۔
عمان میں پہلے دور کے بعد دوسرا مرحلہ
یہ مذاکرات اس وقت ہو رہے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر فوجی مداخلت کی دھمکیاں جاری کر رکھی ہیں۔ دونوں ممالک نے فروری کے شروع میں عمان میں پہلے دور کی بات چیت کی تھی جو گزشتہ سال جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث معطل ہو گئی تھی۔
ایرانی موقف: ‘خطرات کے آگے جھکنا ممکن نہیں’
وزیر خارجہ آراغچی نے سوشل میڈیا پر واضح کیا کہ “خطرات کے آگے جھکنا ہمارے ایجنڈے پر نہیں ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ وہ “منصفانہ اور متوازن معاہدے تک پہنچنے کے لیے ٹھوس تجاویز” لے کر آئے ہیں۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی سے ملاقات
ایرانی وفد نے جنیوا میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی سے تکنیکی مذاکرات بھی کیے ہیں۔ اس کے علاوہ عمانی ہم منصب سے بھی ملاقات طے ہے۔
امریکی وفد میں ٹرمپ کے قریبی ساتھی
امریکی جانب سے صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف مذاکرات میں حصہ لیں گے۔ یہ امریکی وفد جنیوا میں روس اور یوکرین سے متعلق علیحدہ مذاکرات میں بھی شریک ہوگا۔
مذاکرات کے بنیادی مسائل
- امریکہ اور اسرائیل ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
- خطے میں مسلح گروپوں کو ایرانی حمایت بند کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
- اسرائیلی وزیر اعظم نیٹن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران سے تمام افزودہ یورینیم نکالا جانا ضروری ہے۔
- ایران کا موقف ہے کہ وہ اپنے شہری جوہری پروگرام کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
معاشی پابندیاں اور جوہری معاملہ
ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے بی بی سی کو انٹرویو میں کہا کہ اگر امریکہ معاشی پابندیاں اٹھا لے تو ایران اپنے زیادہ افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر سمجھوتہ کرنے کو تیار ہے۔ واضح رہے کہ ایران فی الحال یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر رہا ہے جو 2015 کے معاہدے میں طے شدہ 3.67 فیصد کی حد سے کہیں زیادہ ہے۔
خطے میں فوجی کشیدگی
امریکہ نے حال ہی میں خلیجی خطے میں اپنا دوسرا ایئرکرافٹ کیریئر جیرالڈ فورڈ بھیجنے کا اعلان کیا ہے جو پہلے سے تعینات ابراہم لنکن کیریئر کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ یہ فوجی تعیناتی ایران کے خلاف دھمکیوں کے پس منظر میں کی جا رہی ہے۔
