وسطی ایشیا میں جنگ کی 26ویں روز، اسرائیلی فوج نے تہران پر دوبارہ بمباری کا اعلان کیا
اسرائیلی فوج نے منگل کی رات تہران پر دوبارہ بمباری کا اعلان کیا، جس کے بعد ایران نے اسرائیل کی طرف میزائل داغنے کا دعویٰ کیا۔ اسرائیلی فوج نے اپنے سرکاری ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر لکھا کہ انہوں نے “تہران میں دہشت گردانہ ایرانی حکومت کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے ایک سلسلہ وار حملہ کیا ہے۔”
ایران نے اسرائیل، بحرین، کویت اور اردن پر میزائل حملے کیے
ایرانی انقلابی گارڈز نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ انہوں نے اسرائیل، کویت، بحرین اور اردن کی طرف میزائل داغے ہیں۔ سرکاری ٹیلی ویژن آئی آر آئی بی کے مطابق، انقلابی گارڈز نے شمالی اور مرکزی اسرائیل میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں تل ابیب بھی شامل ہے، ساتھ ہی کویت میں امریکہ کے زیر استعمال دو فوجی اڈوں، بحرین میں ایک اور اردن میں ایک اور فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔
امریکہ نے ایران کو 15 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا
امریکہ نے ایران کو جنگ ختم کرنے کی کوشش میں 15 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں تہران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے پاس موجود تمام افزودہ جوہری ایندھن حوالے کرے یا ہرمز آبنائے کو کھلا رکھے۔ نیو یارک ٹائمز اور اسرائیلی چینل 12 کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کے ذریعے ایران کو اپنی شرائط پہنچائی ہیں، جو دونوں فریقوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس وقت ایران میں “صحیح افراد” کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تاکہ جنگ بندی کے معاہدے پر پہنچا جا سکے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران نے امریکہ کو ہائیڈرو کاربن سے متعلق “بہت بڑا تحفہ” پیش کیا ہے، حالانکہ انہوں نے مزید تفصیلات نہیں دیں۔
خطے میں جاری فوجی کارروائیاں
- کویت میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ایندھن کے ٹینک میں ڈرون حملے کے بعد آگ لگ گئی
- لبان کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 9 افراد ہلاک ہو گئے
- ایران نے کہا ہے کہ “غیر جارحانہ جہاز” ہرمز آبنائے سے گزر سکتے ہیں، شرط یہ ہے کہ وہ سلامتی کے قوانین کی پابندی کریں
- اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر انخلا کی ہدایت کی ہے
عالمی ردعمل اور اقتصادی اثرات
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ “ایمانداری کے ساتھ مذاکرات میں مشغول ہو” جبکہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور امن مذاکرات کا مطالبہ کیا۔ عالمی تیل کی منڈی میں غیر معمولی سرگرمی دیکھی گئی ہے، جس میں ٹرمپ کے ایران کے بارے میں اعلان سے منٹوں پہلے ہزاروں معاہدے ہوئے۔
فرانسیسی وزیر اقتصادیات رولینڈ لیسکیور نے خبردار کیا ہے کہ وسطی ایشیا کی جنگ “ایک نیا تیل کا بحران” پیدا کر رہی ہے جو فرانس کی اقتصادی ترقی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یورپی یونین نے رکن ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گیس ذخائر کو 90 فیصد سے کم کر کے 80 فیصد کر دیں تاکہ مارکیٹ میں قیمتوں کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
